کشمیریوں میں غصہ اور بھارتی فورسز میں بے چینی بڑھ رہی ہے: غیر ملکی میڈیا

نئی دلی (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) کشمیریوں میں غصہ اور بھارتی فورسز میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور علاقے میں کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کرنے کے باوجود کم از کم 500 احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سینئر حکومتی ذرائع نے انہیں بتایا کہ نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ وادی کی خودمختاری کو ختم کرنے وہاں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود 500 مرتبہ احتجاج کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے سے کچھ گھنٹوں قبل وادی میں سخت لاک ڈاؤن کردیا تھا، جو ابھی تک جاری ہے، اس کے ساتھ ہی نقل و حرکت محدود، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کو معطل کردیا تھا۔یہی نہیں بلکہ مقبوضہ وادی میں پہلے سے موجود 5 لاکھ بھارتی فوجیوں کی تعداد کو مزید بڑھاتے ہوئے ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کردی گئی تھی۔تاہم ان تمام پابندیوں کے باوجود مرکزی شہر سرنگر میں بھی احتجاج کیا گیا، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

ایک سینئر حکومتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ 5 اگست سے کم از کم 500 مرتبہ احتجاج اور پتھر پھینکنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ سری نگر میں ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً ہزاروں شہری زخمی ہوچکے ہیں جبکہ 300 پولیس اور 100 نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کو چوٹیں آئیں۔

خبررساں ادارے کو انہوں نے بتایا کہ ‘ناکہ بندی کے بغیر مظاہروں کی تعداد مزید زیادہ اور بڑی ہوسکتی ہے کیونکہ عوامی مخالفت اور غصے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہر وقت کوششیں کی جارہی لیکن ابھی یہ سب کچھ کام کرتا نظر نہیں آرہا جبکہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ میں اضطراب پھیلا رہا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مواصلاتی رابطوں کے معطل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کو دیہی علاقوں سے متعلق معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں رپورٹ میں اپنے رپورٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس خلاف ورزی کے اقدام پر رہائشی معمولات زندگی پر واپس آنے سے انکار کر رہے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے اگر اسکولوں کو دوبارہ کھولا گیا ہے لیکن طلبہ وہاں جانے سے قاصر ہیں جبکہ انہیں پورے دن کھولنے یا ‘کبھی نہ کھولنے کا کہا جاتا ہے’۔ اس کے علاوہ مختلف دکانیں ابھی بھی بند ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اے ایف پی کو سیکورٹی اور حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ وادی سے کم از کم 4 ہزار لوگوں کو حراست میں لیا گیا جن میں تاجر، اساتذہ، کارکنان اور مقامی سیاست دان تھے، ان میں سے کچھ کو بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

ادھر ایک اور سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ 5 اگست کے بعد سے تقریباً ایک ہزار 350 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، جنہیں پولیس پتھر مارنے والا قرار دے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں