یمن میں 20 لاکھ بچے سکول سے محروم، 37 لاکھ کو معاونت کی ضرورت

اوسلو (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) ناروے میں پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے کہا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی کے نتیجے میں دو ملین بچے اسکول جانے سے محروم ہیں جب کہ 37 لاکھ بچوں کی فوری مدد کی ضرورت ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ناروے پناہ گزین کونسل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یمن میں جاری خاجہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بچے سکول نہیں جا سکتے۔ اس وقت تقریباً 20 لاکھ کے قریب بچے سکول جانے سے محروم ہیں یا انہیں سکول کی سہولت حاصل نہیں جب کہ 37 لاکھ بچوں کو سکولوں میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے کتب اور دیگر ضروریات کی مدد میں مدد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران یمن میں 2000 سکول متاثر ہوئے یا انہیں بے گھر ہونے والے افراد کو رہائش کے لیے کھولا گیا۔

نارورے پناہ گزین کونسل کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2016ء کے بعد یمن کے ہزاروں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل سکیں جس کے نتیجے میں 10 ہزار سکولوں کے 4 ملین بچوں کی تعمیر پرمنفی اثرات مرتب ہوئے۔

یمن کی آئینی حکومت کی طرف سے ایران نواز حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے 2014ء کے بعد 30 ہزار یمنی بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں