آصف غفور اور مولانا فضل الرحمٰن آمنے سامنے

اسلام آباد (ڈیلی اردو) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 18 ستمبر کو مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا جس میں اسلام  آباد کی جانب آزادی مارچ کیلئے تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران چارٹر  آف ڈیمانڈ کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ، مذہبی، جمہوری، مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری مسائل ہمارے مطالبات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کیپٹن صفدر نے میاں نوازشریف کا پیغام پہنچایا کہ اکتوبر میں جس تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا ن لیگ شانہ بشانہ ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکمران جعلی بھی ہیں اور نااہل بھی۔ان کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری سے آزادی مارچ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، دوسرا اور تیسرا قائد بھی موجود رہے گا کون ڈیل کر رہا ہے اور کون نہیں یہ چند دن میں واضح ہو جائے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کشمیر کے لیے جن جذبات کا اظہار کیا وہ ہمارے حوصلے بلند کرنے کیلیے کافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل یحیٰ خان نے بھی یہی باتیں کی تھی۔ لیکن اگلے دن جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور خدا کرے ان کا بیان اس طرح نہ ہو۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا بیان بھی حوصلہ افزا تھا اور خدا پاکستان کو اس پالیسی پر ثابت قدم رکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی  آر معیشت کی ذمہ داری اپنے سر نہ لیں یہ ان کی ملازمت نہیں، حکومت اس وقت حالت نزاع میں اور اس حالت میں کوئی بیان قبول نہیں ہوتا۔ جے یو  آئی کے سربراہ نے کہا کہ کچھ بڑے لوگوں کے قرضے ایک آرڈیننس سے معاف کرنا ایک مضحکہ خیز بیان تھا اور اب واپس لینے والے آرڈیننس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں