آخری گولی، آخری سپاہی، آخری سانس تک اپنا فرض نبھائیں گے: آرمی چیف قمر جاوید باجوہ

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے تھا پاکستانی اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں  ۔آخری گولی، آخری سپاہی، آخری سانس تک اپنا فرض نبھائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یومِ دفاع کے سلسلے میں راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آج آپ کو واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کشمیر، تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک اس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہوجاتا۔

اپنے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیادوں میں شہدا کا لہو شامل ہے جنہوں نے بلا شبہ ایک عظیم جدو جہد کے بعد ہمارے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1947 سے لے کر خواہ وہ جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، جب بھی ضرورت پڑی وطن کے بیٹوں سے لبیک کہا، دھرتی کے بیٹوں کا خون کل بھی پاکستان کی حفاظت کی ضمانت تھا اور آج بھی ہمارے جری سپوت وطنِ عزیز پر قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔

میں یہ بات یقین سے کہتا ہوں کہ جوانوں کی کامیابیاں کبھی رائیگاں نہیں گئیں اور نہ جائیں گی، حالیہ سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابیاں باقی دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یہ ایک لمبی اور مشکل جنگ تھی جس میں ہمارے جوانوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کردیا لیکن پاکستان کے دشمنوں کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہین ہونے دیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان میں امن کی فضا قائم ہے اور آج کا پاکستان امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے جو کہ خطے اور پوری دنیا کے لیے بھی ہے جن کے لیے ہماری قربانیوں اور تعاون ایک مثال ہے۔

پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے پوری کی ہیں اب اقوامِ عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو عملی طور پر رد کرے، ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کا پر امن اور بدلتا ہوا پاکستان دنیا کے لیے امن ترقی و رواداری کا پیامبر ہے، ایک پر امن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان ہماری منزل ہے اور ہم پوری حکمتِ عملی سے ان منزل کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دہشت گردی کے عفریت سے کامیابی سے لڑنے کے بعد اب ہماری جنگ غربت، بے روزگاری، جہالت اور معاشی پسماندگی کے خلاف ہے تا کہ ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آج جب ہم ایک روشن پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہماری دل مقبوضہ کشمیر میں موجود اپنے بھائیوں کی تکلیفوں، مصیبتوں اور بڑھتی مشکلات کے باعث نہایت بے چین ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ آج کا کشمیر ہندوتوا کی پیروکار ہندوستانی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار بن چکا ہے، ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، کشمیری خون ارزاں ہوچکا اور جنت نظیر ظلم کی آگ میں جل رہا ہے۔

میں آج آپ کو واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کشمیر، تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک اس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہوجاتا۔

موجودہ ہندوستانی قیادت نے مذہبی جنونیت، تعصب، تنگ نظری اور طاقت کے زعم میں کشمیریوں کے حقوق پر جو حملہ کیا ہے وہ بلا شبہ ہمارے اور پوری عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے بے بس عوام کی تکالیف اور آئے روز کی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان، کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا، پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

پاکستان ایک پر امن ملک ہے کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے، پاکستان کی بہادر عوام،افواج اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیا رہیں، ہم آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ آج جب خطے کے حالات کو دیکھا جائے تو جنگ اور بے چینی کے بادل بھی نظر آتے ہیں اور امن و سلامتی کی امید بھی مگر تمام حالات میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے، اس عمل میں بھی ہمارے شہدا اور غازیوں کی قربانیاں شامل ہیں۔

ہم نے ہمیشہ امن و سلامتی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے، افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ہم نے ہمیشہ افغانستان میں ہائیدار امن کی کوششیں کی ہیں اور آئندہ بھی جاری رکھیں گے، موجودہ افغان مفاہمتی عمل میں ہمارا بھرپور تعاون ہماری سوچ کا عکاس ہے۔

اور یہ کہ تنازع کے تمام فریقین کی شرکت اور اتفاق رائے ہی سے افغان قوم کے لیے امن سلامتی خوشحالی لائی جاسکتی ہے، پاکستان نے ہمیشہ افغان سربراہی میں افغانوں پر مشتمل امن عمل کی حمایت کی ہے۔

گزشتہ کئی ماہ کی سرگرم سفارتی کوششوں کی وجہ سے آج امن کی منزل نزدیک نظر آرہی ہے، اس عمل کے حتمی نتیجے پر پہنچنے تک ہمارا با مقصد تعاون جاری رہے گا کیوں کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان اور پاکستانی قوم کی طرف سے تمام غازیوں اور بالخصوص شہدا کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ آپ کے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں، خون کی کوئی قیمت نہیں مگر آپ کا حوصلہ لازوال ہے پوری قوم آپ کی قربانیوں اور عزم کو سلام پیش کرتی ہے، آپ ہمارا مان ہیں۔

شہید ہماری پہنچان ہیں، شہدا کی قربانیاں، آپ کے حوصلے اور پوری قوم کی بے مثال جدو جہد پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ یومِ دفاع شہدائے پاکستان کے اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم کوئی شہادت نہیں بھولے، زندہ قومیں اپنے شہیدوں پر ناز کرتی ہیں، ان کے کارناموں اور کامیابیوں سے اپنے جذبوں کو جلا بخشتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں