ملک بھر میں آج یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا

لاہور (ڈیلی اردو) یوم عاشور 10 محرم الحرام آج منگل کو نہایت عقیدت واحترام اور مذہبی رواداری کے ساتھ منایا جائے گا۔ ملک بھر میں مجالس عزا منعقد ہوں گی جبکہ علم، تعزیے اور ذوالجناح کے ماتمی جلوس نکالے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق یوم عاشور کے موقع پر ملک بھر کی فضا سوگوار ہے، نواسہ رسول حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے کربلا کے میدان میں عظیم قربانی پیش کرکے اسلام کو ہمیشہ کے لیے سربلند کردی۔

حق و باطل کے اس معرکے کی یاد میں آج ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں علم،شبیہہ ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد کیے جا رہے ہیں۔

شام کو مجالس شام غریباں برپا ہوں گی۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات جبکہ موبائل سروس بند رکھی جائے گی۔ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتولؑ حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ملک بھر کے طول و عرض میں مجالس عزا، علم و تعزیہ اور ذوالجناح کے ہزاروں جلوس برآمد ہوں گے جس میں کروڑوں کی تعداد میں عزادار شامل ہو کر ماتم داری اور نوحہ خوانی کرکے اپنا پرسہ پیش کریں گے۔

ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں منعقدہ مجالس عزا میں علمائے کرام اور ذاکرین فلسفہ شہادت بیان کرتے ہوئے حضرت امام حسینؑ اور ان کے رفقا کی دین اسلام کی سر بلندی کیلئے کربلا کے تپتے ریگزار میں پیش کی گئی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

امام بارگاہوں میں مجالس عزا کے اختتام پر شبیہ علم وذوالجناح اور تعزیے کے بڑے بڑے جلوس برآمد ہوں گے جو کہ اپنے مقررہ راستوں سے گزر کر شام کو واپس آستانوں پر اختتام پذیر ہوں گے جہاں پر مجالس شام غریباں بپا ہوں گی۔

اس موقع پر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔ پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کی جا چکی ہیں۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہو گی جبکہ یوم عاشور کے موقع پر موبائل سروس بند رکھی جائے گی۔

الیکٹر ونک میڈیا پروگرامز نشر اور پرنٹ میڈیا فیچر شائع کریں گے۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز ملک بھر میں پولیس، رینجرز اور پاک فوج کی جانب سے 9ویں محرم الحرام کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ ڈبل سواری پر پابندی عائد رہی اور جلوس کے روٹس پر موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔ عبادت گاہوں، مجالس، امام بارگاہوں اور مساجد کے اطراف اسنیپ چیکنگ کی گئی جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ بھی کی گئی۔تمام حساس علاقوں اور راستوں کو کنٹینر و خاردار تاریں لگاکر سیل کردیا گیا جبکہ ملک میں تمام دفاتر، دکانیں اور بازار مکمل طور پر بندر ہے۔

ہیلی کاپٹرز کی مدد سے جلوس والے علاقوں میں فضائی نگرانی کی گئی جبکہ موبائل پیٹرولنگ اور موٹر سائیکل گشت بھی جاری رہا ۔ جلوس کے راستوں پر بلند عمارتوں کی چھتوں پر سیکورٹی اہلکار اور اسنائپرز تعینات رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں