کسی انتہا پسند کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: وفاقی وزیر داخلہ

اسلام آباد (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ کسی انتہا پسند کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان میں کسی جنگی سردار یا دہشت گرد کی جگہ نہیں ہے، جیش محمد اور جماعت الدعوہ کے تمام مدارس کو حکومتی تحویل میں لیا گیا ہے، وزیراعظم نے تنقید کے باوجود منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، آصف زرداری کے خلاف کیس جاندار نہ ہوتا تو وہ جیل میں نہ ہوتے، ایک طرف مودی نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے، دوسری جانب مولانا صاحب دھرنا دینا چاہتے ہیں، فضل الرحمن کے کہنے پر عوام باہر نہیں آئے گی، ہر شعبے کی طرح پولیس کے نظام کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔

سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق بدھ کو اپنے انٹرویو میں وزیر داخلہ نے کہا کہ نائن الیون سانحہ کے بعد دنیا یکسر بدل گئی، نائن الیون کے بعد عالمی برادری کا ساتھ دینے کیلئے سارے ادارے آن بورڈ تھے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے ملک کو اس تباہی کے دھانے پر پہنچایا ہے، ملک کی خستہ حالی کا ذمہ دارایک فرد کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام جہادی گروپوں کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان میں کسی جنگی سردار یا دہشت گرد کی جگہ نہیں، کسی انتہا پسند کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، جیش محمد اور جماعت الدعوہ کے تمام مدارس کو حکومتی تحویل میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف حکومت نے بڑا کام کیا، عمران خان نے تنقید کے باوجود منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، آصف زرداری کے خلاف کیس جاندار نہ ہوتا تو وہ جیل میں نہ ہوتے، آصف زرداری کے خلاف کیس تگڑا ہے، وائٹ کالر کرائم ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں