خالصتان کا پاسپورٹ اور کرنسی ڈیزائن سامنے آ گیا، بھارت میں کھلبلی مچ گئی

نئی دہلی (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر کو زبردستی اپنا حصہ بنانے والا بھارت خالصتان تحریک کی وجہ سے اپنی نیندیں حرام کر بیٹھا ہے۔ بھارت میں سکھ برادری کی خالصتان تحریک دن بدن زور پکڑنا شروع ہو گئی ہے۔

اس حوالے سے قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ خالصتان تحریک چلانے والے سکھوں نے خالصتان کا پاسپورٹ اور خالصتان کی کرنسی کا ڈیزائن بھی سامنے لا کر بھارتی حکمرانوں، خفیہ ایجنسیوں کی نیندیں حرام کر دیں۔

بھارت میں اسی فیصد سکھوں نے اپنے فیس بک اکاونٹس، دکانوں، دفاتر اور گھروں میں باقاعدہ خالصتان کے پاسپورٹ، کرنسی کی تصاویر لگا لی ہیں۔

با وثوق ذرائع کے مطابق پاسپورٹ، کرنسی کی تصاویر سامنے آ نے کے بعد ایجنسیوں کی رپورٹس پر بھارتی پنجاب میں خفیہ اداروں، فوج، پولیس اور دیگر اہم سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پر تعینات سکھ افسران کے تبادلوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور انہیں ان اضلاع میں بھیجا جا رہا ہے جہاں سکھوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور ان پر باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھا جانے کا کہا گیا ہے۔

ایسی تمام فوجی بیرکوں کے باہر جن جن علاقوں پر سکھ تعینات تھے وہاں سے ان کو ہٹایا جا رہا ہے۔ ان سکھ رہنماؤں اور لیڈرز کی مانیٹرنگ شروع کر دی گئی ہے جن کے عزیز ماضی میں خالصتان تحریک کے رہنما رہے ہیں۔

ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں، سرکاری ، پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو مودی سرکار کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ اگر آپ کے اداروں میں سکھ طلباء نے خالصتان تحریک یا کشمیریوں کے لیے کوئی آواز اٹھائی یا جلوس نکالا تو آ پ کے خلاف بھی کارروائی ہو گی اور ایسے طلباء کو بھی تعلیمی اداروں سے فارغ کر دیا جائے۔

اس حکم نامے کے بعد اب تک بھارتی پنجاب کی دو بڑی یونیورسٹیوں سے 112 سکھ طلبا طالبات کو نکالا جا چکا ہے جبکہ دو تعلیمی اداروں کے سکھ ذمہ داران نے احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے خود استعفا دے دیا ہے۔

خالصتان کے پاسپورٹ، کرنسی سامنے آنے کے بعد پنجاب میں ہندو جنونی افسران کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے اور ان کو اس تحریک کو دبانے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں