حکومت پاکستان کو اسلامی نظریہ کے اصولوں کی بنیاد پر فلاحی ریاست بنانے کا تصور رکھتی ہے جو حضرت محمدؐ نے مدینہ میں قائم کی: وزیراعظم

اسلام آباد (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) موجودہ حکومت نے اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے پختہ عزم کے ساتھ عوامی آراء کے حصول کیلئے تاریخی ”احساس“ حکمت عملی دستاویز کا اجراء کرتے ہوئے ملک میں شفافیت کا نیا کلچر متعارف کرایا ہے جو غربت کے خاتمہ اور پسماندہ طبقات کی بہبود کیلئے وزیراعظم کے احساس پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلہ میں ایک ٹھوس قدم ہے، کثیر الشعبہ جاتی اور کثیر الجہتی احساس حکمت عملی ایک تاریخی دستاویز ہے جو نہایت فصیح و بلیغ انداز میں حکمت عملی کو پیش کرتا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق منگل کو جاری حکمت عملی دستاویز میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت پاکستان کو اسلامی نظریہ کے اصولوں کی بنیاد پر فلاحی ریاست بنانے کا تصور رکھتی ہے جو حضرت محمد نے مدینہ میں قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسی فلاحی ریاست قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی، میرٹ کی بالادستی اور طرز حکمرانی میں شفافیت ہو، جہاں سب کیلئے برابر مواقع دستیاب ہوں اور جہاں ضرورت مند کو سماجی تحفظ حاصل ہو۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک سرکاری حکمت عملی دستاویز کو بیک وقت سرکاری اداروں اور عوام کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے فلاحی رےاست کے وژن کی وضاحت کرتا ہے۔ 57 صفحات پر مشتمل ”احساس حکمت عملی“ پروگرام کی ضرورت اور پس منظر، وژن، مقاصد، اہداف، اصولوں، عملدرآمد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے ایک ٹویٹ میں احساس حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس دستاویز کو عوامی مشاورت کیلئے پیش کرنے کا مقصد ایک ایسے نئے شفاف و کشادہ کلچر کو فروغ دینا ہے جس میں حکومت اپنے ملک کے بہترین اور روشن دماغوں کی مشاورت سے کام کرنا چاہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں