افغانستان: ننگرھار کے ضلع خوگیانی میں امریکی ڈرون حملہ، 30 مزدور شہید، 40 زخمی، متعدد لاپتہ

کابل (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) افغانستان کے صوبے ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں 30 مزدور شہید اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ڈرون نے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی کے علاقے وزیر تنگی میں ڈرون حملہ کیا جس کی زد میں آکر 30 مزدور شہید اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فورسز داعش دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانا چاہتی تھیں تاہم حملے کی زد میں فصلوں میں کام کرنے مزدور آگئے، کئی افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث شہادتوں میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

حکام کے مطابق شہریوں کی شہادت کا واقعہ بدھ کی رات صوبہ ننگرہار کے مشرقی علاقے وزیر تنگی میں پیش آیا۔ حملے میں 40 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ درجنوں مزدور لاپتہ ہیں۔ افغانستان کا صوبہ ننگرہار پاک افغان بارڈر اور ضلع خیبر کے ساتھ متصل ہے۔

افغان حکومت کے تین اہلکاروں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ امریکی ڈرون حملے کا ہدف داعش کے دہشت گردوں کا ایک ٹھکانہ تھا۔ لیکن ان کے بقول ڈرون نے غلطی سے نزدیک واقع کھیتوں میں موجود کسانوں پر حملہ کیا۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو ننگرہار میں سرگرم ہیں اور وہاں ان کی طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

علاقے کے ایک قبائلی رہنما مالک راحت گل نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد مزدور اور کسان تھے جو قریب واقع کھیتوں سے چلغوزے چننے کے بعد آرام کر رہے تھے۔

ملک راحت گل کے مطابق مزدوروں نے پورے دن کی مزدوری کے بعد آگ کا الاؤ روشن کیا ہوا تھا اور اس کے گرد بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے کہ اسی دوران ڈرون نے ان پر میزائل داغے۔

افغان میڈیا کے مطابق وزارت دفاع نے ڈرون حملے کی تصدیق اور واقعے سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار کر دیا جب کہ گورنر ننگرہار کے ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغان حکومت معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ابھی 9 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ننگر ہار میں داعش کے دہشت گردوں پر ڈرون حملہ کیا تھا جس میں عام شہریوں کے شہادت ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ترجمان کے بقول امریکی فوج حقائق جاننے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے چلغوزے کے کھیتوں کے مالک حیدر خان نے واقعے میں 30 افراد کے شہید اور 40 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

حیدر خان نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ چلغوزے چننے کے لیے ان کے کھیتوں میں کل 150 مزدور کام کر رہے تھے جن میں سے کئی حملے کے بعد سے لاپتا ہیں۔

امریکی ڈرون حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں