آزاد کشمیر میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 28 افراد جاں بحق، 438 سے زائد زخمی، ایمرجنسی نافذ

اسلام آباد (ڈیلی اردو/مانیٹرنگ ڈیسک) آزاد کشمیر، اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید زلزلے کے باعث 2 بچوں اور دو عورتوں سمیت 28 سے زائد افراد جاں بحق اور 438 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر میرپور ہوا، جہاں زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث مقامی ہسپتالوں میں جگہ کم پڑگئی ہے جس کے باعث ہسپتالوں کے باہر میٹریس بچھا کر زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ کشمیر نے تصدیق کی ہے کہ میر پور سمیت آزاد کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے کے نتیجے میں اموات کی تعداد بڑھ کر 26 ہوگئی ہیں۔ جبکہ ضلع لاہور میں ایک لڑکی اور ضلع جہلم میں ایک عورت جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس طرح ابتک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔

میرپور میں زلزلے سے عمارت گر گئی جس کے نتیجے میں وہاں موجود 50 افراد ملبے تلے دب گئے۔ متعدد افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ زلزلے سے سڑکوں پر گہرے شگاف پڑگئے اور کئی گاڑیاں الٹ گئیں جس کے باعث آمد و رفت منقطع ہوگئی ہے۔

میرپور میں متعدد سرکاری اور نجی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ جامعہ مسجد نیو بندرال کا مرکزی دروازہ اور مینار زمین بوس ہو گیا۔ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ہاسٹل کی دیوار گر گئی۔ ایک طالب علم حمید اللہ بلڈنگ سے کودنے پر زندگی کی بازی ہار گیا۔

ادھر کھاڑک میں دیوار گرنے سے بچی ملبے تلے دب گئی۔ نواحی علاقے کھمبال میں مسجد کا مینار گرگیا۔ درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے۔ میرپور اور بھمبر کے درمیان بھی پلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

امریکی جیولوجکل سروے کے مطابق سہ پہر 4 بجے آنے والے زلزلے کی شدت 5.8 تھی اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی، اور اس کا مرکز جہلم کے شمال میں آزاد کشمیر اور پنجاب کو جدا کرنے والی سرحد سے 22 اعشاریہ 3 کلومیٹر دور تھا۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز جہلم سے 5 کلو میٹر شمال کی طرف تھا جب کہ گہرائی زیر زمین 10 کلو میٹر تھی۔  زمین میں گہرائی کم ہونے کی وجہ سے قریبی علاقوں میں زیادہ نقصانات کا خدشہ ہے۔

سہ پہر 4 بج کر 2 منٹ پر آنے والے زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی کی اطلاعات آزاد کشمیر کے علاقے میرپور سے ملی ہیں جہاں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر میں زلزلے سے ہونے والی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور امدادی کام فوری شروع کرنےکی ہدایت کی۔

چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض نے غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زلزلے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے چند علاقے متاثر ہوئے جبکہ سب سے زیادہ نقصان میرپور آزاد کشمیر میں ہوا ہے جہاں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

آزاد کشمیر سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا اور گھروں، دفاتر اور عمارتوں میں موجود لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر آگئے جبکہ رپورٹس کے مطابق زلزلے کا یہ دورانیہ 8 سے 10 سیکنڈ تک تھا۔

پنجاب میں لاہور، ملتان، سرگودھا، فیصل آباد، گجرات، سیالکوٹ، ساہیوال، رحیم یار خان، راجن پور، پاکپتن، گجرات سمیت دیگر شہروں میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔

خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، ایبٹ آباد، مردان، شانگلہ، بونیر، دیر، ہری پور، مالاکنٹ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ نقصان میرپور میں ہوا جہاں مختلف حصوں میں زلزلے سے کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے اس کے علاوہ کئی گھر اور سڑکیں تباہ ہوگئیں۔

میرپور آزاد کشمیر میں تقریباً 10 سیکنڈ تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے بعد پڑنے والے اثرات سے شدید نقصان کی بھی اطلاعات ملیں۔

زلزلے کے بعد آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور حکام نے زلزلے کے زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

‏زلزلے سے آزاد کشمیر میں 20 افراد جاں بحق ،435 زخمی ہوئیں: وزیراعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے میڈیا کو بتایا کہ آزاد کشمیر میں زلزلے سے ابتک 20 افراد جاں بحق اور 435 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

جہلم میں زلزلے سے7 خواتین سمیت 23 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایک خاتون جاں بحق ہوئی ہے۔

‏زلزلے سے ایک فوجی جوان سمیت 22 افراد جاں بحق ہوئے: آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کے مطابق آزاد کشمیر میں ‏زلزلے سے ایک فوجی جوان سمیت 22 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ‏سول انتظامیہ کے رکارڈ کے مطابق زلزلے سے 160 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ‏جاتلاں کے قریب تین رابطہ پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ‏رپورٹس کے مطابق منگلا ڈیم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، ‏متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی متعلقہ اداروں کیساتھ ملکر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

لاہور میں زلزلے کے باعث چھت گرنے سے ایک بچی جاں بحق، 3 زخمی

لاہور کے علاقے نشتر میں بھی زلزلے کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ایک بچی جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ریسکیو کی مدد کے سے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں 19 سالہ معراج، 5 سالہ رابعہ اور 7 سالہ حسیب شامل ہیں۔

وزیراعظم کی متعلقہ محکموں کو معاونت کی ہدایت

وزیراعظم عمران خان نے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

وزیر اعظم نے متاثرہ علاقے میں ریلیف کے سلسلے میں متعلقہ محکموں کو ہر قسم کی معاونت کی فوری فراہمی کی ہدایت کی ہے۔

آرمی چیف کی زلزلہ متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن کی ہدایت

زلزلے کے بعد ریسکو اداروں کے ساتھ ساتھ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی مدد کی، پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے سول انتظامیہ کی مدد کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ‘چیف آف آرمی اسٹاف نے آزاد جموں و کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کے لیے سول انتظامیہ کے ساتھ فوری طور پر ریسکیو آپریشن کی ہدایت کر دی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کی طبی امدادی ٹیمیں اور ایوی ایشن کے دستے فوری طور پر روانہ کردیے گئے ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کی 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق 

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹنٹ جنرل محمد محمد افضل نے پریس کانفرنس میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔ 

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹنٹ جنرل محمد محمد افضل پریس کانفرنس کررہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ زلزلے سے 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ  100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں، بارشوں کی پیش نظر ٹینٹ،کمبل دیگر اشیاء رات تک متاثرہ علاقوں میں پہنچائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایک سے 2 روز ہمارا فوکس ریسکیو آپریشن پر ہو گا جس کے بعد متاثرین کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق منگلا ڈیم کو نقصان نہیں پہنچا، احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے ٹربائن بند کی تھیں، ابھی حالات ہمارے کنٹرول میں ہیں، اگر ضرورت پڑی تو عوام سے مدد کی اپیل کریں گے۔

قبل ازیں  میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین این ڈی ایم اے کا  کہنا تھا کہ زلزے کا مرکز جہلم اور میرپور کا علاقہ تھا۔ 

انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے، وہ دور دراز کے علاقے نہیں ہیں،بہت جلد وہاں امدادی کارروائیاں شروع کردی جائیں گی جب کہ متعدد علاقوں میں سویلین انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے میرپور کے ایک قصبے میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی پنجاب اور دہلی تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی متعدد افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں