شام: ادلب میں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں، 120 افراد ہلاک

دمشق (ڈیلی اردو/اے پی پی) شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں صدر بشارالاسد کی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں گذشتہ 48 گھنٹے میں 120 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ ادلب میں نئی جھڑپیں اتوار کو شروع ہوئی تھی۔اس میں شامی حکومت کے 54 فوجی اہلکار شہید ہو گئے ہیں اور شہریوں کی 8 شہادتیں ہوئی ہیں۔ سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 58 دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں۔

ادلب کے مختلف علاقوں پر روس کے لڑاکا طیاروں نے بھی بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 15 افراد مارے گئے ہیں جبکہ شامی شہری اسدی فوج کی ادلب کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے اس نئی کارروائی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کرگئے ہیں۔

صوبہ ادلب کے جنوب میں واقع دیہات اور قصبوں سے لوگ ٹرکوں، کاروں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے اپنی اشیائے ضروریہ کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ فوج اور مسلح دہشت گرد گروپ کے درمیان گذشتہ جمعہ اور ہفتہ کو جھڑپوں میں کم سے کم 70 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں