کوئٹہ: بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی

کوئٹہ (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گذشتہ سالوں کی نسبت رواں برس دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق  2019 میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر واقعات میں 145 افراد شہید جبکہ 2018 میں 313 افراد شہید ہوئے تھے۔

بلوچستان میں رواں برس امن و امان کے حوالے صورتحال میں واضح بہتری آئی۔

بلوچستان کے داخلہ و قبائلی امور کے محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 2019 کے دوران بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، بارودی سرنگوں کے دھماکوں سمیت 190 واقعات میں  سکیورٹی اہلکاروں سمیت 145 افراد شہید جبکہ 528 افراد زخمی ہوئے۔

دہشت گردی کے واقعات میں 43 ایف سی، 21 پولیس اور 11 لیویز اہلکار فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئے۔

رواں سال 29 جنوری کو لورالائی میں ڈی آئی جی آفس حملے میں 9 افراد شہہد ہوئے، 18 اپریل کو اور ماڑہ میں 14 سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بس سے اتار کر شہید کیا گیا۔

21 اپریل کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں خودکش دھماکے میں ہزارہ برادری کے 21 افراد شہید ہوئے۔ بارہ مئی کو گوادر میں نجی ہوٹل پر دہشتگردوں کے حملے میں 5 افراد شہہد ہوئے۔

28 ستمبر کو چمن میں دھماکے میں سیاسی رہنما سمیت 3 افراد شہید ہوئے، 15نومبر کو کچلاک بائی پاس دھماکے میں 3 ایف سی اہلکار شہید ہوئے تھے۔

رواں برس کے مقابلے میں 2018 کے دوران بلوچستان میں دہشتگردی کے 284 واقعات میں 313 افراد شہید جبکہ 609 زخمی ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں