مانسہرہ: مدرسے کے مولوی کی 10 سالہ بچے کیساتھ 100 مرتبہ زیادتی، بچے آنکھوں سے خون جاری

اسلام آباد (ڈیلی اردو) صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع مانسہرہ میں مدرسہ تعلیم القرآن کے مولوی نے درندگی کی انتہا کر دی۔ مولوی نے مدرسے میں دین کی تعلیم حاصل کرنے والے 10 سالہ بچے کے ساتھ 100 مرتبہ سے زائد زیادتی کی۔ تکلیف کی شدت کے باعث بچے کی آنکھوں سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق مانسہرہ میں ایک مدرسے میں پڑھنے والے دس سالہ بچے کو اس مدرسے میں پڑھانے والے معلم شمس الدین اور تین دیگر نامعلوم افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ بچے کو قریباً 100 مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، درد کے باعث بچے کی آنکھوں سے آنسووں کے بعد خون رسنے لگا۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق ملزم نے بچے کے ساتھ درجنوں بار زبردستی جنسی زیادتی کی۔ رپورٹ کے مطابق شدید جنسی زیادتی کے بعد بچے کی آنکھوں سے خون آنا شروع ہوگیا تھا۔

میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد تھانہ پھلڑا میں ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ بچے کو ایوب میڈیکل کمپلکس ایبٹ آباد شفٹ کر دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مانسہرہ میں پولیس کے اہلکاروں کے پاس علی گوہر نامی شخص نے رپورٹ درج کرائی کہ انھوں نے اپنے دس سالہ بھتیجے کو دو سے تین ماہ پہلے مدرسے میں داخل کرایا تھا۔

چند روز پہلے انھیں ٹیلیفون پر اطلاع ملی کہ ان کے بھتیجے کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے، تو وہ خود اس وقت اپنی بیٹی کے علاج کے لیے ہسپتال میں موجود تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مدرسے کے ایک استاد نے چچا کی درخواست پر بچے کو ہسپتال پہنچا دیا جہاں طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے علاوہ اس بچے کے پر جسمانی تشدد بھی کیا گیاتھا۔ بچے کی آنکھوں پر زخم اور آنکھیں سرخ ہو چکی ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق بھتیجے نے چچا کو بتایا کہ مدرسے کے ایک استاد نے، جو کہ مہتمم مدرسہ کے بھائی ہیں، مدرسے کے ایک طرف لے جا کر اس سے بد فعلی کی جس پر اس نے شور شرابا کیا تو مدرسے کے دیگر لوگ جمع ہو گئے اور بچے کو مارا پیٹا اور اسے ڈرایا گیا کہ خبر دار اگر کسی کو اس بارے میں بتایا۔

مانسہرہ کے ضلع پولیس افسر صادق بلوچ کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ جرم میں شریک معاونین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذکورہ مدرسے کو سیل کر دیا گیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان سے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے، پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن تاحال ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں