حساس ادارے نے کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم ایڈووکیٹ کے اغوا کا اعتراف کرلیا

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پنجاب کے ضلع راولپنڈی سے اغوا ہونے والے لاپتا افراد کے وکیل اور پاکستان فوج کے سابق کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کو وزارتِ دفاع نے تحویل میں لینے کا اعتراف کر لیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں جمعرات کو کرنل انعام ایڈووکیٹ کے صاحب زادے حسنین انعام کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر جسٹس مرزا وقاص رؤف نے سماعت کی۔

وائس آف امریکا کے مطابق سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد حسین نے اس معاملے پر وزارتِ دفاع کی رپورٹ پیش کی اور تسلیم کیا کہ کرنل انعام الرحیم فوج کی تحویل میں ہیں۔

وجوہات کے حوالے سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انہیں “آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی” پر تحویل میں لیا گیا ہے۔ لیکن اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عدالت کو مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کر سکے۔

عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد حسین کے پیش کردہ دلائل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راجہ عابد حسین کو کل بروز جمعہ طلب کر لیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو گھر سے کس لیے اٹھایا گیا؟

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ بھی بتایا جائے، انہیں کس قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے؟

مقدمے کی سماعت کل بروز جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

کرنل انعام الرحیم کون ہیں؟

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے کرنل انعام الرحیم لاپتا افراد اور فوجی عدالتوں سے سزائیں پانے والے افراد کی وکالت کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان نیوی کے جہازوں پر حملہ آور ملزمان کی بھی وکالت کی تھی۔

کرنل انعام الرحیم ماضی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر پر حملے کے ملزمان کی وکالت بھی کرتے رہے ہیں۔

کرنل انعام ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے بعض جج صاحبان کے خلاف کچھ ریفرنس بھی دائر کیے ہوئے ہیں جن میں جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل ہیں۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو گزشتہ ماہ ان کے اہل خانہ کے بقول ان کی رہائش گاہ سے نامعلوم افراد نے زبردستی اغوا کر لیا تھا۔

کرنل انعام الرحیم کے صاحب زادے حسنین انعام نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد کے اغوا میں کرنل انعام ایڈووکیٹ کے کچھ سابق دوست بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے کرنل انعام کی تحویل کے اعتراف کے بعد ان کے صاحب زادے حسنین انعام نے کہا ہے کہ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں وزارتِ دفاع نے ان کے والد پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے لیکن کرنل انعام کو فوج سے ریٹائرمنٹ لیے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ وزارتِ دفاع کرنل انعام کے اغوا اور تحویل میں رکھنے کے حوالے سے کیا جواب جمع کراتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں