بغداد حملہ: القدس کے سربراہ قاسم سلیمانی، عراقی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور لبنانی کمانڈر نعیم قاسم سمیت 9 شہید

بغداد + واشنگٹن (ڈیلی اردو رپورٹ) عراقی دارالحکومت بغداد کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی، عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس اور لبنانی حزب اللہ کمانڈر نعیم قاسم سمیت 9 اہم کمانڈرز شہید ہوگئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بغداد کارگو ٹرمینل کے قریب سڑک پر 2 گاڑیوں کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی اور عراق کی پاپولر موبائلائزیشن فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس سمیت دیگر اہم اسلامی جنگجو کمانڈرز شہید ہوگئے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اور ایران نواز ملیشیا کے ارکان دو گاڑیوں میں بغداد کے ہوائے اڈے سے نکل رہے تھے جب ان کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق جنرل سلیمانی لبنان یا شام سے بغداد پہنچے تھے۔ امریکی ڈرون نے گاڑیوں پر کئی میزائل برسائے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں نو افراد شہید ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یمن حزب اللہ ملیشیا کے کمانڈر نعیم قاسم بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہیں۔

پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ قاسم سلیمانی کو مارنے کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا۔ امریکی وزارت دفاع کے مطابق جنرل سلیمانی خطے میں امریکی سفارتی عملے اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جنرل سلیمانی اور قدس فورسز سیکڑوں امریکی فوجیوں کو مارنے اور زخمی کرنے میں ملوث ہے۔

جنرل سلیمانی پر حملے کی تصدیق ہوتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پرچم ٹویٹ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق ڈرون سے میزائل حملہ عراق میں امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کے ردعمل میں کیا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی نے جنرل سلیمانی کی شہادت پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے میزائل حملے سے داعش کو کمزور کرنے کا بدلہ لیا ہے۔

وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

یاد رہے گزشتہ کئی روز سے عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کے باہر امریکی فضائی حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں