دوسری جنگ عظیم کے بعد قاسم سلیمانی جیسی مزاحمتی شخصیت مسلم دنیا میں کوئی پیدا نہیں ہوئی

لاہور (ڈیلی اردو) سینئر تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قاسم سلیمانی جیسی مزاحمتی شخصیت مسلم دنیا میں کوئی پیدا نہیں ہوئی، عراق میں داعش کو پسپا کرنا اور شکست دینا قاسم سلیمانی کا بہت بڑا کام تھا، شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے میں بھی قاسم سلیمانی کااہم کردار تھا۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”تھنک ٹینک“میں گفتگو کرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قاسم سلیمانی جیسی مزاحمتی شخصیت مسلم دنیا میں کوئی پیدا نہیں ہوئی، عراق میں داعش کو پسپا کرنا اور شکست دینا قاسم سلیمانی کا بہت بڑا کام تھا، شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے میں بھی قاسم سلیمانی کا اہم کردار تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کیخلاف مزاحمت کرنیوالوں میں قاسم سلیمانی کا نمایاں مقام تھا۔

بشار الاسد کا کہنا تھا کہ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے ضرور اس کا جواب آئے گا، اس پر پاکستان کا ری ایکشن سمجھ سے بالا ترہے، ایک قتل کرنے والا ہے اور ایک قتل ہواہے لیکن ہم کہہ رہے ہیں کہ دونوں اطراف سے تحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی کی موت سے تیسری جنگ عظیم جیسی اصطلاحیں استعمال نہیں کرنی چاہئے، امریکہ کیخلاف مزاحمت کرنیوالے چند ہی طاقتیں تھیں، ان میں نمایاں شخص قاسم سلیمانی تھے جنہوں نے تقریروں سے نہیں عملی طور پر ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کاش کوئی قاسم سلیمانی ہوتا کیونکہ ہم تو بس کھوکھلی تقریریں کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں