262

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے 24 گھنٹوں میں 5 کشمیری شہید کر دیئے

سری نگر (ڈیلی اردو/کے ایم ایس) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ میں مزید دو نوجوان کو شہید کردیا ہے جس سے گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج نے دیگر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر سرچ آپریشن کیا اور گھر گھر تلاشی لی جس کے دوران جارحیت پسند فوج نے فائرنگ کر کے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ جبکہ کشمیری مجاہدین کی فائرنگ سے دو بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں اسی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قابض بھارتی فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے تھی جنہیں انتہائی نازک حالت میں ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ضلع کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن کیا۔

گزشتہ روز ضلع شوپیاں میں بھی سرچ آپریشن کے دوران ایک مکان کو بارودی مواد کے دھماکے سے اُڑا دیا گیا تھا، بھارتی فوج نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ براہ راست گولیوں کا نشانہ بناکر 3 نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس طرح محض دو دنوں میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

آخری رپورٹس آنے تک بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور سرچ آپریشن جاری تھا۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔

بھارتی قابض فوج بدستور انسانی حقوق کی پامالی میں مصروف ہے جہاں نوجوانوں اور بزرگوں سمیت خواتین و بچوں پر بھی تشدد جاری ہے اور انہیں گھروں پر محصور کردیا گیا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں اور طلبہ مسلسل ساڑھے پانچ ماہ سے سکولوں، کالجوں اور جامعات نہیں جاسکیں جبکہ ان کے امتحانات کی تیاریوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

امریکا سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بھی بھارت کو صورت حال معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 1989 سے متعدد مسلح گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔

اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ شہید ہو چکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں