252

نوشہرہ میں عوض نور کا قتل: سنسنی خیز انکشافات منظر عام پر آگئے

نوشہرہ (ڈیلی اردو) خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی بچی عوض نور کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے تاہم تفتیش کے دوران ملزمان نے ایسے ایسے انکشافات کیے جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

ملزمان کا کہنا ہے کہ عوض نور کا قتل انتقام لینے کے لیے کیا گیا۔ ملزمان کو گذشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا۔ گرفتار دو ملزمان میں سے ایک نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جبکہ عدالت نے ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

ملزم ابدار کی جانب سے عدالت میں بتایا گیا کہ عوض نور کے ماموں نے اس کو کام کے بہانے سے بلا کر اس کے ساتھ دو بار بدفعلی کی تھی جس کا بدلہ لینے کے لئے اس نے عوض نور کو مارا۔ میں نے اس متعلق والدین کو بتایا لیکن انہوں نے مجھے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ ہم غریب لوگ ہیں، اس بات کو یہیں رہنے دو۔

ملزم نے مزید بتایا کہ جب عوض نور کا والد باہر چلا گیا تو میں نے انتقام لینے کے لیے یہ سب کیا۔بچی ٹینک میں پھینک دیا، ایک ملزم نے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ اس نے بچی کو پانی کی ٹینکی میں پھینکا اور باہر آنے پر گلا دبا کر مار دیا۔

8 سالہ عوض نور کے والد اسجد جہان کی جانب سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ محمود خان سے گزارش کی گئی ہے کہ اس کی بیٹی کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔

یاد رہے اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے مقتولہ کے گھر گیا تھا اور لواحقین کو 10 لاکھ کی امدادی رقم بھی دی گئی تھی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسے واقعات قابل افسوس ہیں جبکہ صوبائی حکومت صوبے میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے صوبائی سطح پر سخت ترین قانون سازی کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ نوشہرہ کے علاقہ کاکا صاحب کی رہائشی 8 سالہ عوض نور دوپہر کو مدرسے جانے کے لئے اپنے گھر سے نکلی جس کے بعد وہ اغواء ہو گئی۔ گھر والوں کی جانب سے تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا اور پولیس کو بھی اطلاع کردی گئی۔ لیکن بچی کی لاش ڈھونڈنے کے بعد زیر زمین پانی کی ٹینکی سے ملی۔

پولیس کی جانب سے شک کی بنیاد پر دو پڑوسیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی کو گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے اور اس کے جسم پر معمولی تشدد کے نشانات بھی ہیں تاہم ریپ کیے جانے کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کی بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں