131

کررونا وائرس پھیلانے کا الزام: تبلیغیوں کا طالبانی جرم ناقابل معافی ہے، بھارتی وزیر

نئی دہلی (ڈیلی اردو/وائس آف امریکا) نئی دہلی کی بستی حضرت نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے ہیڈ کوارٹرز (مرکز) میں ٹھہرنے والے مندوبین میں سے متعدد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جس کے بعد بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1637 ہو گئی ہے جب کہ 38 اموات بھی ہو چکی ہیں۔

بھارتی وزارتِ داخلہ کے مطابق تبلیغی جماعت کے مرکز میں 13 سے 15 مارچ تک ایک اجتماع منعقد ہوا جس میں شرکت کرنے والوں میں سے ریاست تامل ناڈو کے 50 افراد کرونا وائرس کے مریض پائے گئے۔ نئی دہلی میں 24، تیلنگانہ میں 21، آندھرا پردیش میں بھی 21، انڈمان اور نکوبار کے جزیرے پر 10 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

ریاست آسام اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک، ایک شخص میں کرونا وائرس کا مرض پایا گیا۔ یہ تمام افراد وہ تھے جنہوں نے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کی تھی۔

وزارت داخلہ کے مطابق 824 غیر ملکی باشندوں نے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے جن کی تفصیلات دہلی پولیس کے سربراہ کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ لگ بھگ 250 غیر ملکیوں کو قرنطینہ مراکز اور آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 20 غیر ملکی گزشتہ دس روز کے دوران کرونا وائرس پازیٹیو پائے گئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق یکم جنوری سے اب تک 2100 غیر ملکی باشندے تبلیغی جماعت کے مرکز کا دورہ کر چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے سات افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

تبلیغی اجتماع میں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، ایران، گھانا، ماریشس، تنزانیہ، برونائی، تھائی لینڈ، کرغزستان، جنوبی افریقہ، برطانیہ، امریکہ، فرانس، فلپائن، سری لنکا، نیپال اور کینیا کے لوگوں کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں سے مقامی شہری بھی شریک ہوئے تھے۔

اجتماع میں شرکت کے بعد بہت سے لوگ بھارت کے مختلف علاقوں میں چلے گئے تھے۔ اب ان تمام لوگوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔

نئی دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کے مطابق تبلیغی جماعت کے مرکز سے 2361 افراد کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 617 لوگوں کو قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔

اس علاقے سے اب تک پولیس کے ذریعے کم از کم ایک ہزار افراد کو بسوں کے ذریعے دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے جب کہ مرکز کے داخلی دروازے پر ایک اسکریننگ کیمپ بھی لگایا گیا ہے۔

تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے اندرونِ ملک سے آنے والے مسافر پانچ ٹرینوں میں آئے تھے۔ ان ٹرینوں میں سفر کرنے والے تمام مسافروں کی تفصیلات حکومت کو فراہم کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب دہلی پولیس نے تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔

مولانا کاندھلوی نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے خود پر عائد الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مرکز نے اس سلسلے میں انتظامیہ کو اعتماد میں لے کر احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ تمام غیر ملکیوں کو 21 مارچ کو ہی مرکز سے روانہ کر دیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی کی حکومت نے 22 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے 24 مارچ سے 21 روزہ ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا جس کی وجہ سے مرکز میں مقیم لوگ نہیں نکل سکے اور انہیں گھر واپس نہیں بھیجا جا سکا۔

مولانا سعد نے مزید کہا ہے کہ تبلیغی مرکز نے لاک ڈاؤن کی پوری پابندی کی ہے۔ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد نظام الدین تھانے کے افسران سے بھی رابطہ کیا گیا اور ان سے درخواست کی گئی تھی کہ لوگوں کو گھر بھیجنے میں مدد کی جائے۔

مولانا سعد کے مطابق پولیس کے ساتھ مل کر بسوں کا انتظام بھی کیا گیا تھا لیکن حکام نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے کسی بھی قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

تبلیغی جماعت سے وابستہ ایک کارکن مشرف علی کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں نے کرونا وائرس کے معاملے کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا ہے۔ ہم لوگ شرکائے اجتماع کو ان کے گھروں پر بھیجنے کے لیے انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔

ان واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت میں ایک ہنگامے کی سی کیفیت ہے۔ بعض سیاست دانوں اور نیوز چینلز کی جانب سے تبلیغی جماعت اور ان کے مرکز کے خلاف پروپیگنڈا مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے مطابق “تبلیغیوں نے طالبانی جرم کیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔ پورا ملک کرونا وائرس سے لڑ رہا ہے۔ اس قسم کی سرگرمیاں ناقابل معافی گناہ ہیں۔”

دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کہا کہ تبلیغی جماعت کی جانب سے اتنے لوگوں کو مرکز میں رکھ کر سنگین جرم کیا گیا ہے۔ حالانکہ دہلی حکومت نے تمام قسم کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور علمی پروگراموں پر پابندی عائد کر دی تھی اور ایک جگہ 50 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگائی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نیوز چینلز پر ایک طرح سے تبلیغی جماعت کا میڈیا ٹرائل شروع ہو گیا ہے اور ان واقعات کی آڑ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف بھی مہم چلائی جا رہی ہے۔ نیوز چینلز کی رپورٹنگ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے بھارت میں کرونا وائرس تبلیغی جماعت لے کر آئی ہے۔

بعض نیوز چینلز نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ تبلیغی جماعت کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے اور ان کے مالی وسائل پر پابندی عائد کی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی افراد جنہوں نے ان کے بقول بھارت میں کرونا وائرس پھیلایا ہے، انہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مبصرین کے مطابق نیوز چینلز پر جیسے رپورٹنگ کی جا رہی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تبلیغی جماعت کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں رکے ہوئے لوگوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پھنسے ہوئے ہیں جب کہ مختلف مساجد میں مقیم تبلیغی کارکنوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ چھپے ہوئے ہیں۔

تاہم کچھ چینلز کی جانب سے تبلیغی جماعت کا دفاع بھی کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں