حکومت نے بہاولپور میں ہندووں برادری کے 22 گھر مسمار کردیے

لاہور (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کے قریب تحصیل یزمان کے ایک گاؤں چک باون ڈی بی میں ضلعی انتظامیہ نے ہندووں برادری کے بائیس گھر مسمار کردیے ہیں۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہندو جو کہ اقلیت ہونے کی وجہ سے پہلے ہی غیر محفوظ ہیں انھیں یزمان میں ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

جبکہ یزمان کے اسسٹنٹ کمشنر شاہد کھوکر کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کے خلاف کی گئی ہے۔ یزمان کے گاؤں چک باون ڈی بی اور اس کے نواح میں ہندوؤں کی یہ بستی تقریباً پندرہ ایکڑ رقبے پر مشمتل ہے۔

یہ سرکاری زمین تھی جس پر ہندوؤں نے کئی برس پہلے رہائش اختیار کرلی تھی۔

مقامی ہندو رہنما منشا رام کے مطابق ان کی برادری نے بورڈ آف ریونیو کو درخواست دی تھی کہ یہ زمین بے گھر ہندوؤں کو پانچ مرلہ سکیم کے تحت الاٹ کر دی جائے۔ محکمے نے دوہزار اٹھارہ میں ہندوں کو یہاں مکان بنانے کی اجازت دے تھی۔

جھگڑا زمین کا یا مذہب کا؟

حالیہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گیارہ مئی کو ایک مقامی مسلمان شخص محمد بوٹا نے اسسٹنٹ کمشنر شاہد کھوکھر کے دفتر میں منشا رام اور ان کے دو ساتھیوں کے خلاف تحریری شکایت جمع کروائی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ منشا رام نے سرکاری زمین پر قبضہ کررکھا ہے اور اب وہ اس زمین کے پلاٹ بنا کر ہندو برادری کے لوگوں میں فروخت کر رہا ہے اور پیسے بنا رہا ہے۔

درخواست میں یہ شکایت بھی کی گئی کہ ہندو بستی کے کئی لوگ رات کو مسلمانوں کے قبرستان میں چھپ کر شراب پیتے ہیں، جس سے قبرستان کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کارروائی عمل میں لائے۔

فیصل محمود ملتان میں انسانی حقوق کمشین کے رابطہ کار ہیں۔ انھوں نے مکان گرائے جانے کے بعد علاقے میں جاکر اس واقعے اور اس کے محرکات پر تحقیق کی۔ فیصل محمود کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے مطابق جس معاملے کو مذہبی رنگ دینے کی کوششیں کی گئیں وہ دراصل سرکاری زمین پر قبضے کا معاملہ تھا۔

’ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ محمد بوٹا نے سیاسی روابط کے استعمال اور دھمکیوں کے ذریعے ہندو برادری کو زمین خود کو فروخت کرنے پر مجبور کیا۔ وہ زمین جو انھیں 2018 میں بورڈ آف ریونیو نے گھروں کی تعمیر کے لیے قانونی طور پر الاٹ کی تھی۔ ہندو برادری کے پاس اس الاٹمنٹ کا دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

ہندو برادری یہ الزام عائد کررہی ہے کہ محمد بوٹا کی اپنی نظر ہندوؤں کی کالونی کے لیے مختض رقبے پر تھی اور اس کا مقصد اپنی زیر ملکیت اراضی میں اضافہ کرنا ہے۔

بہاولپور

عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود مسماری
ہندوں رہنما منشا رام نے بی بی سی کو بتایا کہ بستی میں ہندوؤں کے 70 خاندان آباد ہیں۔ اس بستی میں پلاٹوں کا نقشہ بھی بن چکا ہے۔ تاہم ابھی ضلعی انتظامیہ نے باقاعدہ ان پلاٹوں کی نشاندہی کا عمل شروع نہیں کیا۔

ان کے مطابق ’محمد بوٹا کی دھمکیوں کے بعد ہم نے سینئیر سول جج کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اور عدالت نے ہماری درخواست پر حکم امتناعی بھی جاری کیا تھا۔ لیکن اس حکم امتناعی کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے ہمارے 22 گھروں کو مسمار کردیا ہے۔‘

وہ یہاں ٹریکٹر لے کر آئے تھے۔

عورتیں اور بچے انھیں واسطے دیتے رہے لیکن انھوں نے کسی کی ایک نہیں سنی اور سب گرا دیا۔ لوگوں کی گندم بھی برباد ہوئی۔ پیٹیاں بھی ٹوٹ گئیں اور سامان کی ٹوٹ پھوٹ گیا، اب وہ کہاں جائیں۔

قبضہ مافیا کا اثر و رسوخ

تحصیل یزمان کی ہندو بستیوں کے یہ مکین غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔

زیادہ تر خاندانوں کی گزر بسر زمینداروں کے مزارعوں کے طور پر کام کر کے ہوتی ہے جبکہ کچھ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو تعلیم ہے نہ وسائل اور نہ ہی سیاسی اثر و رسوخ۔

تاہم انسانی حقوق کمیشن کے فیصل محمود کہتے ہیں کہ اس کے برعکس محمد بوٹا کی پہنچ کو دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’محمد بوٹا نے گیارہ مئی کو منشا رام کے خلاف درخواست دی اور ایسے سرکاری محکمے نے جہاں فائلوں کو سرکنے میں بھی مہینے لگ جاتے ہیں۔ عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود آٹھ دن کے اندر اس پر ایکشن لے لیا۔ یہ سب مقامی قبضہ مافیا کی ملی بھگت ہے۔‘

’اگر سرکار ہندووں کورقبہ دینا چاہتی ہے تو کہیں اور دے‘

ہندوؤں کے خلاف شکایت کرنے والے محمد بوٹا اسٹامپ فروش ہیں اور قریبی چک اٹھاون ڈی بی میں کچھ زرعی رقبے کے مالک بھی ہیں۔ محمد بوٹا ہندو کمیونٹی کی طرف سے لگائے گئے الزام سے انکاری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے ہندو کالونی کی زمین سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ تو سرکاری زمین ہے۔ مجھے تو اس بات پر اعتراض ہے کہ یہ لوگ رات ہمارے قبرستان میں آکر شراب کیوں پیتے ہیں۔ حرام کام کیوں کرتے ہیں اور پھر صبح بوتلیں اور برتن وہیں چھوڑ کر غائب ہوجاتے ہیں۔‘

محمد بوٹا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہ کہا کہ ’مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی نہیں ہونی چائیے۔ سرکار اگر انھیں رقبہ دینا چاہتی ہے تو کہیں اور دے۔‘

’شکایت درست ہونے پر کارروائی کی‘

اسسٹنٹ کمشنر شاہد کھوکھر کا موقف ہے کہ انھوں نے کارروائی ایک شہری کی شکایت پر کی اور یہ کہ انھوں نے اپنے عملے کو بوٹا کی شکایت کی تحقیق کرنے کو کہا تھا۔ یہ شکایت کے درست ہونے پر ہی کارروائی ہوئی۔

ان کے مطابق ’یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ ہم نے سرکاری رقبے پرناجائز قبضے کے خلاف ایکشن لیا ہو ایسی سرگرمی ہوتی رہیتی ہے۔ اسے مذہبی رنگ دینا مناسب نہیں۔ ہم نے صرف وہی مکان گرائے ہی جو الاٹ شدہ سو کینال سے باہر بنائے گئے تھے‘۔

اس سوال پرکہ عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود ضلعی انتظامیہ کیسے کارروائی کرسکتی تھی۔ شاہد کھوکھر نے اس کی ذمے داری ہندو برادری پر ڈالی۔

’یہ تو ان کا کام تھا جنھوں نے عدالت سے حکم امتناعی لیا تھا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کرتے۔ یہ میرے علم میں نہیں تھا۔ اب عدالت ہمیں جو حکم دے گی ہم اس پر عمل کریں گے۔‘

قانونی جنگ

ہندو کمیونٹی کے وکیل سلیم گل نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بہاولپور کی ایک دیوانی کی عدالت میں ضلعی انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے، اب ہم اس معاملے کے حل کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

تاہم انسانی حقوق کمیشن نے اپنے ایک بیان میں مقامی رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث مجرموں کے خلاف کارروائی کریں جن کا دعویٰ ہے کہ انھیں وفاقی وزیر کی حمایت حاصل ہے جبکہ پنجاب حکومت کو اس مسماری سے متاثر ہونے والے تمام خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنا چائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں