416

پاراچنار: بالش خیل اور پاڑہ چمکنی قبائل کے مابین زمین کا تنازعہ، احتجاجی دھرنا ساتواں روز جاری

پاراچنار (محمد صادق) صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کے بالش خیل اور پاڑہ چمکنی قبائل کے مابین زمین کے تنازعے پر ہونے والے پانچ روزہ جھڑپوں کے بعد دونوں قبائل کی جانب سے اپنے اپنے علاقوں میں گذشتہ سات روز سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

بالش خیل اور پاڑہ چمکنی قبائل کے مابین اراضی تنازعے پر 28 جون کو اس وقت جھڑپ شروع ہوئی جب بالش خیل قبائل کے کچھ افراد اپنی حدود میں خیمے لگا رہے تھے کہ پاڑہ چمکنی قبائل کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد دونوں قبائل کے مابین خونریز جھڑپیں شروع ہوئی جس میں دونوں جانب سے 15 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

متحارب قبائل کے مابین جھڑپیں رکوانے کیلئے قبائلی عمائدین پارلیمنٹرینز اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھرپور کوششوں کے بعد فائر بندی کرادی گئی اور دونوں قبائل کے مسلح افراد کو مورچوں سے ہٹاکر فورسز اہلکار تعینات کردی گئی جنگ بندی کے بعد دونوں قبائل کی جانب سے اپنے علاقوں میں گذشتہ سات روز سے احتجاجی دھرنے دئیے بیٹھے ہیں۔

پاڑہ چمکنی قبائل نے مرغے چینہ میں احتجاجی کیمپ لگادی ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حیات خان چمکنی نے بتایا کہ اراضی تنازعات کو مری معاہدے کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے اور کاغذات مال کا قبائلی علاقوں میں کوئی حیثیت نہیں لہذا تصفیے کو قبائلی رواج کے مطابق حل کیا جائے تاکہ علاقے میں امن رہے اور مزید خونریزی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے ان کا دھرنا جاری رہے گا۔

بالش خیل قبائل نے علاقہ سمیر کے فٹبال گراؤنڈ میں اپنے اہل و عیال سمیت دھرنا بٹھا دیا ہے بالش خیل کے روشن علی بتایا کہ عرصہ بیس سال سے وہ اپنی زمینوں کے مقدمات لڑ رہے ہیں اور عدالت نے بھی ان کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے اس کے باوجود متعلقہ حکام علاقہ غیر قبائل کے خلاف کسی قسم کارروائی سے گریزاں ہیں جو کہ افسوس ناک امر ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی ضلع کرم میں ریونیو ریکارڈ موجود ہے حکومت کاغذات مال کے ذریعے یہ معاملہ حل کرے۔ انہوں نے بتایا کہ بالش خیل قوم نے احتجاجا اپنے گھر بار چھوڑ دیئے ہیں اور مسلہ حل نہ ہونے پر اپنے گھروں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری جو کہ ان قبائل کے مابین ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیں نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ فائر بندی کے بعد دونوں قبائل سے جرگے کیلئے پانچ پانچ اراکین کے نام مانگے گئے تھے تاہم ابھی تک دونوں قبائل کی جانب سے کسی قسم مثبت جواب نہیں ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمائدین، انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جارہی ہے کہ دونوں قبائل کی جانب سے دھرنوں کو ختم کیا جائے اور جلد از جلد جرگہ تشکیل دیکر تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں