244

پاراچنار: معذور نوجوان ماسٹر گلزار حسین حکومتی امداد کا منتظر

پاراچنار (محمد صادق) پاراچنار سے تعلق رکھنے والے دونوں ہاتھوں اور ایک ٹانگ سے معذور نوجوان ماسٹر کرنے کے باوجود بے روزگاری کا سامنا کررہے ہیں۔ گلزار حسین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں جو بھی وعدہ کرتا ہے پورا نہیں کرتا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کے ہیڈ کوارٹرز پاراچنار کے نواحی علاقے لقمان خیل سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ گلزار حسین 1999 میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچھائی گئی بارودی سرنگ دھماکے میں شدید زخمی ہوگیا تھا اور دھماکے کے نتیجے میں ایک ہاتھ اور دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگیا۔

گلزار حسین کا کہنا ہے کہ معذوری اور غربت کے باوجود انہوں نے گدھے پر سکول آمد و رفت کرکے بڑی مشکل سے تعلیم حاصل کرلی والد اور والدہ اللہ کو پیارے ہونے کی وجہ سے بڑے بھائی جعفر حسین کے سہارے وہ زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں ماسٹر کرنے کے بعد علاقے کے ایک سکول میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں مگر تحریک انصاف حکومت کے قیام کے بعد گلزار حسین کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے ملنے والے چھ ہزار روپے تنخواہ بھی بند ہوگئی مگر گلزار حسین بغیر تنخواہ کے بھی طلبہ کو تعلیم دے رہے ہیں۔

گلزار حسین کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کہ معذور افراد کے لیے اپنا کوٹہ مختص ہے مگر ہماری آواز کوئی نہیں سن رہا ہے اور نہ ہی معذوروں کے کوٹے پر کوئی بھرتی ہورہا ہے گلزار حسین نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ وزیر تعلیم اور دیگر اعلی حکام سے انہوں نے بار بار ملاقاتیں کیں مگر کوئی اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا جس کی وجہ سے سن کے مسائل روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ گلزار حسین نے بتایا کہ میں معذوری کو اپنی مجبوری نہیں سمجھتا اور معاشرے کا کار آمد شہری بن کر ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں

پاراچنار کے سوشل ایکٹوسٹ جاوید حسین جے جے کا کہنا ہے کہ سابقہ ادوار میں معذور اور نادار افراد کے لیے انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ سکالرشپ مل رہے تھے، زکوٰۃ اور بیت المال کی جانب سے بھی معاونت کی جارہی تھی اور وقتا فوقتاً انہیں مصنوعی اعضا بھی دئیے جاتے تھے مگر تحریک انصاف حکومت میں ایسی تبدیلی آئی کہ ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح معذور افراد بھی اپنے مسائل کیلئے پریشان ہیں۔

جاوید جے جے کا کہنا تھا کہ معذور ہونے کے باوجود گلزار حسین کا معاشرے کیلئے جو کردار ہے ان کی حوصلہ افزائی کیلئے قومی سطح پر ایوارڈ دینے اور خصوصی پیکج دینے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں