57

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اپنے بیٹے کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کے آخری مراحل میں داخل

سکردو (مظفر حسین) جان، اسنوری سمیت پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم کا کے ٹو سر کرنے کے لئے مہم جوئی میں مصروف پاکستانی باپ بیٹے کا 25 جنوری پیر کے روز کے ٹو پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر نئی تاریخ رقم کرنے کا اعلان۔

پاکستانی کوہ پیماؤں میں شامل باپ بیٹا محمد علی سدپارہ اور ساجد علی سدپارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو کم سے کم وقت میں بغیر آکسیجن سر کر کے پاکستان کے لئے نئی عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان سے تعلق باپ اور بیٹا کوہ پیمائی کے دنیا میں توجہ کا مرکز بن گیا۔ سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے نیک خواہشات کے پیغامات مہم جوئی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

https://twitter.com/Alisadparaa/status/1353066746387652609?s=19

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر ان دنوں سرمائی مہم جوئی عروج پر ہیں دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد اس چوٹی کو سر کرنے کے لئے بیس کیمپ پہنچے ہوئے ہیں۔ مہم جوئی کے سلسلے میں پاکستانی کوہ پیماؤں محمد علی سدپارہ اور ان کے بیٹے ساجد علی اور آئس لینڈ سےتعلق جان اسنوری پر مشتمل ٹیم نے ہفتے کی شب 9 بجے کے ٹو بیس کیمپ سے مہم جوئی کا آغاز کیا تھا۔

کوہ پیماؤں کی ٹیم آج کے ٹو پر کیمپ 3 پہنچنے میں کامیاب ہوگئے سوشل میڈیا پر کوہ پیماؤں کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے۔

انہوں نے کیمپ 3 پر مختصر قیام کے بعد مہم جوئی جاری رکھیں گے زرائع کے مطابق پاکستانی کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم بغیر وقفے کے آج رات بھی مہم جوئی جاری رکھیں گے۔

کوہ پیماؤں کی جانب سے طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق 25 جنوری کی صبح 9 تک کے ٹو سر کریں گے اور کے ٹو پر سبز ہلالی پرچم لہرائے گے۔

پاکستانی کوہ پیماؤں جن میں باپ اور بیٹا شامل ہیں کی ٹیم کم سے کم وقت میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی بغیر آکسیجن سر کر کے پاکستان کے لئے نئی عالمی ریکارڈ بنانے کی کوشش کریں گے۔

ساجد علی بغیر آکسیجن کے ٹو سر کرنے کے ساتھ ساتھ کم عمر کوہ پیماء کا اعزاز بھی اپنے نام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں