بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، 6 افراد بہہ گئے، ایمرجنسی نافذ

سبی (طاہر علی شاہ) بلوچستان میں بارش کے بعد برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 6افراد بہہ گئے ، مکران اور ضلع لسبیلہ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ،جبکہ حکومت بلوچستان نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج سے مدد مانگ لی، پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کی امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں،حب ڈیم میں پانی کی سطح ہو گئی ، پی ڈیم ایم اے کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔

ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر مینگل نے بتایا کہ اوتھل میں سیلابی صورتحال کے باعث 4 افراد لاپتہ ہوگئے جبکہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلا میں 6 سے زائد افراد لاپتہ ہیں

ریسکیو ذرائع کے مطابق برساتی ریلے میں بہنے والے 2 لاشیں نکال لی گئیں، تین گائوں زیر آب آ گئے ، لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔

ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر مینگل نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے باعث صورتحال کنٹرول میں ہے، بارشوں میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔

پاک فوج کے 4 ہیلی کاپٹر صبح سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔پی ڈی ایم اے بلوچستان نے شدید بارشو ں سے آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے ضلع لسبیلہ،مکران اور اس کے مضافات میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

متاثرین کی فوری بحالی اور انہیں ریلف کی فراہمی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کردیا گیا ۔وڈھ کے مقام پر سیلابی ریلے کے باعث آرسی ڈی ہائی وے عارضی طور پر بند تھی جس کو کلیئر کر دیا گیا ۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلع لسبیلہ اور اس کے مضافات میں ضلعی انتظامی پی ڈی ایم اے اور فرنٹئیرکور مربوط رابطہ کے ذریعے پوری طرح متحرک اور بلاتعطل امدادی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ اس وقت تقریبا 200 کے قریب متاثر ہ خاندانوں میں اشیا خوردونوش ،خیمے اور کمبل کی فراہمی کا کام جاری ہے۔

متعلقہ حکام کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر طرح سے چوکس ہیں اور متاثرین کیلئے امدادی کاروائیوں کی مسلسل نگرانی کی جاری ہے ۔ شمالی بلوچستان میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ تھم گیا تاہم ندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے اور سیلابی ریلے سے رابطہ سڑکوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔

ضلعی انتظامیہ چمن کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد 40 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔وادی زیارت، توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی اور کان مہترزئی میں برفباری کے بعد آمد و رفت کی بحالی کے لیے برف ہٹانے کا کام جاری رہا۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں جب کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور پی ڈی ایم اے کے ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ۔

حب ڈیم انتظامیہ کے مطابق حب ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڑھ فٹ تک بلند ہوگئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق لسبیلہ میں 28، سبی 21، تربت 18، قلات میں 15، گوادر میں 13، ژوب 12، جیوانی 4 اور پنجگور میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

گلیات میں گزشتہ شام سے ایک فٹ تک برف پڑ چکی ہے جس کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ، مانسہرہ اور گردونواح میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری کے باعث کئی مقامات پر بند شاہراہ قراقرم کو کھولنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں