شکار پور: یوم علی پر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، داعش کے 3 دہشتگرد گرفتار

کراچی (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں پولیس نے تین دہشت گروں کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) پاکستان سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد یوم علی علیہ اسلام پر تخریب کاری کا ارادہ رکھتے تھے۔

شکارپور کے سینیئر سپرینٹنڈنٹ پولیس کامران نواز کا کہنا ہے کہ سلطان کوٹ پولیس چوکی کے قریب واقع چوہی شاخ سے تینوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں کی شناخت خالد محمود پندرانی عرف امیر حمزہ، صدیق بروہی اور عثمان بروہی کے نام سے کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ان کے قبضے سے دو عدد پریشر کُکر آئی ای ڈیز (یعنی دیسی ساختہ بم)، دو دستی بم اور تین پستول برآمد کیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص خالد محمود عرف امیر حمزہ قتل، ارادہ قتل، پولیس مقابلے اور بارودی مواد کی ترسیل میں ملوث رہا ہے اور خانپور امام بارگاہ میں پولیس کی جانب سے ناکام بنائے گئے منصوبے میں سہولت کار تھا۔

کراچی کے بعد شکارپور سندھ کا دوسرا بڑا شہر تھا جہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر حملے کیے گئے۔ ان میں سابق رکن اسمبلی ابراہیم جتوئی کے قافلے پر حملہ، ان کے گاؤں میں مجلس پر حملے کی کوشش، درگاہ حاجن شاہ ماڑی والا میں دھماکہ اور شکارپور شہر کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ شامل ہے۔

اس کے بعد پڑوسی ضلع جیکب آباد میں ماتمی جلوس پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے ایس پی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ شکارپور ضلعے یا آس پاس کے اضلاع کی دہشت گرد تنظیموں کا تعلق یا رابطہ کراچی سے نہیں بلکہ بلوچستان اور افغانستان سے ہے اور ان کی وہاں پر رشتے داریاں بھی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی بڑا سیٹ اپ نہیں ہے۔ یہ گروہوں کی صورت میں کام کرتے ہیں۔‘

ایس ایس پی شکارپور کا کہنا ہے کہ خالد محمود پندرانی عرف امیر حمزہ داعش کے نائب کمانڈر حفیظ پندرانی عرف حفیظ بروہی عرف علی شیر بروہی کے چھوٹے بھائی ہیں اور امام بارگاہ بم دھماکے میں ملوث رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق حفیظ پندرانی شکارپور، خانپور اور جیکب آباد، میں خودکش بم حملوں میں ملوث رہے۔ سیہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی اسی کو قرار دیا گیا تھا۔

36 سالہ حفیظ پندرانی کا تعلق ضلع شکارپور کے گاؤں عبدالخالق پندرانی سے تھا اور سندھ پولیس کو انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست ’ریڈ بک‘ میں اس کا تعلق لشکر جھنگوی آصف چھوٹو گروپ، تحریک طالبان اور جیش محمد سے بتایا گیا تھا۔

حفیظ پندرانی 2019 میں بلوچستان کے علاقے سبی میں عبداللہ بروہی کے ہمراہ ایک پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے عبداللہ بروہی کو داعش کا امیر اور حفیظ پندرانی کو نائب امیر قرار دیا تھا۔

سہون شریف میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر فروری 2017 میں بم حملے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

’داعش کے فرقہ وارانہ نظریے نے متوجہ کیا‘

مذہبی شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے صحافی ضیاالرحمان کا کہنا ہے کہ حفیظ پندرانی گروپ نے خود کو داعش کے ساتھ منسلک قرار دیا تھا لیکن ان کی کوئی منظم تنظیم نہیں تھی اور نہ ہی مرکزی تنظیم نے اُنھیں قبول کیا تھا۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ جو داعش کا فرقہ وارانہ نظریہ تھا اس نے اس جیسے گروہوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس سے قبل یہ لوگ کسی نہ کسی طرح ان فرقہ وارانہ شدت پسند تنظیموں کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔

ضیا الرحمان کا کہنا ہے کہ القاعدہ یا بعد میں القاعدہ جنوبی ایشیا کی سرگرمیاں کراچی تک محدود رہیں لیکن داعش کا فروغ اس کی فرقہ وارانہ سوچ کی وجہ سے ہی بڑھا ہے۔

اُن کے مطابق اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ریاست نے لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں کے خلاف سخت ایکشن لیا جس کی وجہ سے وہ پس منظر میں چلی گئی، جس کے باعث داعش کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں