پاکستان میں توہین مذہب کا مسئلہ اور یورپی پارلیمان کی قرارداد

برسلز (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) یورپی پارلیمان نے پاکستان کی اسلام نواز پالیسیوں کے تناظر میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔ اس کے تحت پاکستان کو تجارتی معاہدے کے تحت حاصل خصوصی مراعات پر نظرثانی کی جائے گی۔

اس قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو خاصی مشکل صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ ایک طرف ملک کے لیے یورپی یونین کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس بہت فائدہ مند ہے تو دوسری جانب توہین مذہب کا قانون مذہبی اور سیاسی طور پر ایک انتہائی حساس معاملے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس قرارداد پر عمل درآمد ہونے سے پاکستانی تجارت کو شدید مندی کا سامنا ہو گا جو ملکی معیشت کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث ہو گا۔

یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد

یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان میں توہینِ مذہب کے واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی قرارداد میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس قرارداد میں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے فرانس میں مسلم انتہا پسندی کے خلاف کیے گئے اقدامات کے خلاف پاکستان میں بڑھتے ہوئے فرانس مخالف جذبات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے جرمن رکن رائنہارڈ بیوٹیکوفر (Reinhard Bütikofer) کا کہنا کہ تشویش کی اولین وجہ ایک مسیحی جوڑا ہے، جو کئی سالوں سے پاکستانی جیل میں ہے اور اسے توہینِ مذہب کے الزام کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اس قانون کی سختی کا سامنا ہے۔ رائنہارڈ بیوٹیکوفر کے مطابق یہ پاکستانی قانون ‘قرونِ وسطیٰ کے دور کا‘ دکھائی دیتا ہے۔

قانون کے متعلق بات کرنا مشکل ہے

پاکستان کے دائیں بازو کے گروپوں نے یورپی یونین کی پارلیمان کی قرارداد پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ توہینِ مذہب کے ملکی قانون کا ہر ممکن انداز میں دفاع کریں گے اور مغرب کو پیغمبر اسلام کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یورپی پارلیمان کی اس قرارداد کی منطوری کے ممکنہ عملی نتائج کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کے ایک اجلاس میں صورت حال کا جائزہ لیا اور اس صورت حال پر کوئی مصالحت نا کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

اس میٹنگ میں وزراء کا موقف تھا کہ توہینِ مذہب کے قانون میں کسی صورت کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ اس میٹنگ کے بعد یہ حکومتی فیصلہ ضرور سامنے آیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔

توہینِ مذہب ایک حساس معاملہ

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کا موضوع ایک انتہائی حساس معاملے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کی کل آبادی میں قریب ستانوے فیصد مسلمان ہیں اور ان کے نزدیک دین اسلام اور پیغمبر اسلام نہایت اہم ہے۔ سینکڑوں افراد توہینِ مذہب کے الزامات کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔ کئی مواقع پر مشتعل گروہوں نے ایسے افراد کو بے پناہ تشدد کر کے ہلاک بھی کر دیا جنہیں توہینِ مذہب کے الزام کا سامنا تھا۔

پاکستان نے سن 1947 میں آزادی حاصل کرتے وقت توہینِ مذ‌ہب کے قوانین انگریز حکومت سے ورثے میں حاصل کیے تھے۔ ان میں توسیع اور شدت سن 1977 سے سن 1988 کے درمیانی عرصے میں پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیا الحق نے متعارف کرائی تھیں۔

یورپی پارلیمنٹ کی منظور شدہ قراداد کے حوالے سے پاکستانی بزنس کمیونٹی کا کہنا کہ جی ایس پی پلس کے ختم ہونے سے انہیں شدید مشکلات کے ساتھ ساتھ کاروباری گھاٹے کا بھی سامنا ہو گا اور اسلام آباد حکومت کو اس تناظر میں میں عملی اور مثبت اقدامات کرنا چاہییں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں