141

افغانستان: کابل میں سید الشہد سکول کے باہر دھماکا، 40 بچے ہلاک، 50 سے زائد زخمی

کابل (ڈیلی اردو) افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شیعہ اکثریتی علاقے دشت برچی میں سیدالشہد سکول کے قریب دھماکے میں ابتک 40 بچے ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں سے زیادہ تر نو عمر طلبا تھے۔

افغان حکومت کے ترجمان کے مطابق دارالحکومت کابل میں ہونے والا بم دھماکا سید الشہداء اسکول کے نزدیک ہوا۔

وزارت داخلہ کے مطابق دھماکے کی جگہ کے قریب ہی شیعہ ہزارہ مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ دشت برچی ہے۔ افغان شیعہ ہزارہ کمیونٹی کو ماضی میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سامنا رہا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب طلبہ سکول کی عمارت سے باہر نکل رہے تھے۔ وزارت تعلیم کے مطابق زخمیوں میں ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائیں نے اس دھماکے کی وجہ بیان نہیں کی تاہم اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ دھماکے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کابل میں وزارتِ صحت کے حکام نے ہلاکتوں کی تعداد پہلے پچیس اور زخمیوں کی تعداد باون بتائی۔ کچھ ہی دیر بعد ہلاکتوں کی تعداد چالیس ہو جانے کی تصدیق کر دی گئی۔

مقامی ہسپتال کے ذرائع نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آخری خبریں ملنے تک بم دھماکے کی جگہ پر ایمبولینیس موجود تھیں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا۔

اس بم دھماکے کے بعد مشتعل مظاہرین کی طرف سے ریسکیو ورکرز کے زد وکوب کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ حکام نے مظاہرین سے پرامن رہنے اور ریسکیو سرگرمیوں میں تعاون کی اپیل کی ہے۔

مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی جائے وقوعہ پر جمع ہے اور ان کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ کابل میں وزارتِ صحت کے ترجمان غلام دستگیر نزاری نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دھماکے کی جگہ والے علاقے کو خالی کر دیں تا کہ امدادی کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں۔

یہ حملہ کابل کے مغربی حصے میں پیش آیا ہے جہاں کثیر تعداد میں ہزارہ شیعہ مسلمان آباد ہیں۔ گذشتہ برسوں میں نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) نے یہاں کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

طالبان نے ان امکانات کی تردید کی ہے کہ یہ کارروائی انہوں نے کی۔ ساتھ ہی طالبان نے اس ہلاکت خیز حملے کی مذمت بھی کی ہے۔

کابل میں ہفتہ آٹھ مئی کو کیا جانے والا یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب اس جنگ زدہ ملک میں امریکا کے صرف ڈھائی ہزار سے تین ہزار تک فوجی وہاں رہ گئے ہیں۔ امریکی فوج کا انخلا جاری ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے فوجی گیارہ ستمبر سے پہلے پہلے افغانستان سے واپس اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو جائیں گے۔

ایک اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ کابل حکومت کو ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ افغانستان کے وسیع تر علاقے پر طالبان عسکریت پسندوں کو کنٹرول حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں