افغانستان سے امریکی انخلا: دوستی یا دشمنی، انتخاب پاکستان کے ہاتھ میں ہے، صدر اشرف غنی

کابل + اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ دوستی اور دشمنی کا انتخاب پاکستان ہی کو کرنا ہوگا کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں یا دشمنی۔

اتوار کو صدارتی محل ارگ میں پولیس فورس کے نوجوانوں کی تقریب سے خطاب میں افغان صدر نے پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوستی یا دشمنی دونوں پاکستان کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کے الفاظ تھے ’آج پاکستان کے لیے فیصلے کا وقت ہے، اگر ہمارا ملک عدم استحکام کا شکار رہا تو پاکستان بھی ہوگا اور اگر وہ ہمارے ملک کی بہتری چاہتے ہیں، تو اس میں اُن کی بھی بہتری ہوگی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دوستی اور دشمنی کا انتخاب پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔‘

افغان صدر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان افغانستان سے دوستی چاہتا ہے تو افغانستان خطے اور دنیا کے ممالک کے مابین تعاون بڑھانے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دو سال سے اُن کا ملک ہر طرح سے تیار ہے اور بین الاقوامی افواج کے انخلا سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

صدارتی محل ارگ کی جانب سے جاری کیے گئے افغان صدر کے تقریر کی ویڈیو میں صدر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ پاکستان کیسے دوستی اور دشمنی کرسکتا ہے تاہم ماضی میں افغان حکومت پاکستان پر الزام لگاتی آئی ہے کہ اُن کا طالبان پر نہ صرف اثر و رسوخ ہیں بلکہ اُن کی حمایت بھی حاصل ہیں۔

افغان صدر کا یہ بیان امریکی صدر کے اُس بیان کے بعد سامنے آرہا ہے جس میں امریکی صدر نے رواں سال ستمبر تک افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد کابل میں بیشتر حلقوں میں یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ بین الاقوامی افواج کے بعد افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے۔ تاہم افغان صدر کا کہنا تھا کہ وہ آج نہیں دو سال سے اس انخلا کے لیے تیار تھے۔

اُدھر کابل میں افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو افغان وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے الگ الگ ٹیلی فونک بات چیت کی ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ نے اس ٹیلی فونک بات چیت کے حوالے سے جاری کیے گئے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیرخارجہ نے افغان ہم منصب سے کہا ہے کہ قیام امن کے لیے پاکستان ہمیشہ مثبت مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا اور اُن کی خواہش ہوگی کہ طالبان ترکی میں ہونے والے کانفرنس میں شرکت کریں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 24 اپریل سے چار مئی تک ترکی کے شہر استنبول میں افغانستان کے بارے میں دس روزہ کانفرنس کا انعقاد ہوگا جس میں ترکی وزارت خارجہ کے مطابق افغان حکومت اور طالبان کے وفود شرکت کریں گے۔ تاہم طالبان نے افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کے انخلا تک ہر قسم کی کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کا اعلان کیا ہے۔

دوحہ میں بین الافغان مذاکرات تعطل کا شکار

دوحہ میں طالبان کے مذاکراتی ٹیم اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم دونوں نے کہا ہے کہ اُن کے درمیان گذشتہ کئی ہفتے سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہیں۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے بین الافغان مذاکرات بھی متاثر ہوئے ہیں اور ان کی بحالی میں وقت لگے گا۔

وہاں دوحہ میں موجود افغان حکومت کے مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن حفیظ منصوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتوں سے اُن کی طالبان کی مذاکراتی ٹیم سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں