جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود اسرائیل اور حماس کے حملے جاری

یروشلم + غزہ (ڈیلی اردو/وی او اے) اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے اور کئی ملکوں کی جانب سے جنگ بندی پر زور دیا جا رہا ہے۔ البتہ اردن نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اسرائیلی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اسرائیل نے منگل کو ایک مرتبہ پھر غزہ کی پٹی پر متعدد حملے کیے جب کہ فلسطین کے مزاحمتی رضاکاروں کی جانب سے بھی اسرائیل کی جانب کئی راکٹ فائر کیے گئے۔

فریقین کے درمیان منگل کو ہونے والی لڑائی میں ایک فیکٹری میں کام کرنے والے دو تھائی ورکرز ہلاک جب کہ سات شہری زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 10 مئی سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 200 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 59 بچے اور 35 خواتین بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نو روز سے جاری کشیدگی کے دوران حماس نے غزہ سے اسرائیلی شہریوں پر 3500 سے زیادہ راکٹ فائر کیے ہیں جن میں 12 شہری ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ حماس کی جانب سے لاکھوں اسرائیلوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اسرائیل سے امن معاہدہ کرنے والے مشرقِ وسطیٰ کے ملک اردن نے اسرائیلی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اردن کے وزیرِ اعظم بشر الخصاونہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ان کا ملک اسرائیلی سفیر کو بے دخل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش ہے اور وہ سفارت کاری کے ذریعے خطرناک ہوتی کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اردن اور اسرائیل نے 1994 میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اردن فلسطینی ریاست کا اہم حامی بھی رہا ہے۔

اردن کے حکام کو خدشہ ہے کہ غزہ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں 1948 اور 1967 کی طرح فلسطینی مہاجرین کی ایک لہر اردن کا رخ کر سکتی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں میں سرگرم عمل ہے۔

اقوامِ متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شہریوں کے انفرااسٹرکچر خاص طور پر کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ لیب اور صحت کی دیگر سہولیات کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادھر امریکہ کی جانب سے بھی کشیدگی کے خاتمے پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک ہفتے کے دوران تین مرتبہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات کی ہے جب کہ صدر بائیڈن نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی گفتگو کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا جتنا جلدی ممکن ہو سکے ہم کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں جس کے لیے اسرائیل اور حماس دونوں کو ہی تشدد ختم کرنا ہو گا۔

جین ساکی کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سفارت کاری ایک مؤثر ذریعہ ہے جس کی مدد سے کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہے اور اس وقت ہماری توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع بینی گینتز نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ لڑائی میں کمی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مخالف فریق کو مکمل اور طویل مدت تک خاموش نہیں کر دیا جاتا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان 2014 کی جنگ کے بعد پیش آنے والی کشیدگی کی ذمہ دار حماس ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے آٹھ روز قبل اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنا شروع کیے تھے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ اس کی یہ جوابی کارروائی یروشلم میں فلسطینیوں کے حقوق پامال کیے جانے پر کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں