پاکستان نے امریکی فوج کو فضائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی، پینٹاگون

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکی افواج کو افغانستان میں موجودگی برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے فضائی حدود اور زمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اس بات کا دعویٰ انڈو پیسفیک افیئرز کے لیے امریکی نائب وزیر دفاع ڈیوڈ ایف ہیلوے نے گزشتہ ہفتے امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ میں کیا۔

رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ ہیلوے کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔

ڈیوڈ ہیلوے نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکی موجودگی میں مدد کے لیے پاکستان کے اوپر فلائٹ اور زمین کے استعمال کی اجازت بھی دے دی ہے۔

افغان نیوز ایجنسی پژواک میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی ضلع کرم میں پاکستان افغان سرحد کے قریب شلوزان اور ترمینگل کے علاقے میں فوجی اڈا بنا رہا ہے۔

افغانستان کے نیوز چینل کابل نیوز نے اپنی رپورٹس میں کہا کہ امریکہ نے پاڑا چنار میں فوجی اڈا بنانا شروع کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ روزانہ آٹھ سے 10 فوجی ہیلی کاپٹر شلوزان کے علاقے میں آتے ہیں اور یہ کہ شلوزان اور ترمینگل میں چیک پوسٹیں بن رہی ہیں جب کہ مقامی افراد کو وہاں جانے کی اجازت نہیں۔

خیال رہے کہ امریکا طالبان معاہدے کے مطابق امریکی افواج کو افغانستان سے مئی تک نکلنا تھا تاہم بعد میں امریکی صدر جو بائیڈن نےاعلان کیا کہ یکم مئی سے امریکی افواج کا انحلاء شروع ہو جائے گا اور انحلاء کا یہ عمل 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے 20 سال مکمل ہونے پر پورا ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں