پاکستان میں امریکا کو فوجی اڈے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان نے افغانستان میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے امریکا کو اپنی ملٹری بیسز فراہم دینے کے امکانات کو یکسر مسترد کردیا۔

رپورٹس کے مطابق سینیٹ میں ‘اسرائیل کے ماہ رمضان میں مسجد الاقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں پر منظم حملے’ کے متعلق بحث سمیٹنے کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کو فوجی اڈے دینے کے حوالے سے رپورٹس مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت، امریکا کو کسی صورت فوجی اڈے نہیں دے گی، نہ ہی اسے پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی جائے گی۔

ان کا یہ بیان امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ کے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ افغانستان کے پڑوس میں متعدد وسطی ایشیائی ممالک سے اپنے فوجی تعینات کرنے کے لیے بات کر رہی ہے تاکہ افغان سرزمین دوبارہ القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کا اڈا نہ بن جائے۔

تاہم امریکی عہدیداران نے پاکستان کا نام نہیں لیا جس کی افغانستان کے ساتھ لگ بھگ 2 ہزار 600 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے، نہ ہی انہوں نے میڈیا کی ان افواہوں پر تبصرہ کیا کہ فوجی اڈوں کا معاملہ دوطرفہ بات چیت میں اٹھایا جاسکتا ہے۔

وزیر خارجہ کا بیان پینٹاگون عہدیدار کے اس بیان کے بعد بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان نے امریکی فوج کو اس کی زمینی و فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی یقینی بنا سکے۔

ایک قانون ساز کی اس تشویش کہ امریکی انخلا کے بعد اگر افغانستان میں جانہ جنگی شروع ہوگئی تو پاکستان پر اس کے اثرات پڑیں گے، پر شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان ذمہ دارانہ اور مقررہ وقت پر انخلا کی حمایت کرتا ہے کیونکہ ہمیں خطرہ تھا اور خطرہ ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والا خلا ملک کو 90 کی دہائی میں واپس لے جاسکتا ہے، وہاں لاقونیت ہو سکتی ہے اور خدا نہ کرے خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے’۔

فلسطین کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ‘سیز فائر کا پہلا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن عمل کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں، جب تک مسئلہ فلسطین کا دیرپا یا مستقل حل تلاش نہیں ہوگا مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوگا، اس سلسلے میں امریکا کو اپنا سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ان کی دعوت پر جمعرات کو پاکستان کا دورے پر آئیں گے۔

ایوان بالا نے غزہ میں اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر کی گئی بلااشتعال بمباری اور انسانیت سوز جنگی جرائم کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی۔

قرارداد میں سینیٹ نے اسرائیل کی جانب سے دفاع کے حق سے محروم مقبوضہ علاقے میں رہنے والے فلسطینیوں پر اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور اسرائیلی طیاروں نے رہائشی علاقوں اور میڈیا کے دفاتر کو نشانہ بنایا جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں جان بوجھ کر مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر جرم کیا گیا۔

سینیٹ نے چند ممالک کے منافقانہ طرز عمل اور دوہرے معیار پر بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا جنہوں نے ان انسانیت سوز مظالم کی مذمت نہیں کی اور بدترین اسرائیلی جارحیت کے باوجود انسانی حقوق کی باتیں کرتے رہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ہم فلسطینی متاثرین اور جارحیت کا مظاہرہ کرنے والے اسرائیل کو برابری کا مقام دینے کی کوشش کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ واضح طور پر تنازع نہیں تھا، یہ ایک یک طرفہ جنگ تھی۔

ایوان بالا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ موصول فلسطینی عوام کو نسل کشی اور منظم نسل کشی جیسے جرائم کا سامنا ہے، اسرائیل نسلی بنیادوں پر نشانہ بنانے والی ریاست ہے اور جنگی جرائم میں ملوث ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں