افغان فورسز تنہا ہی سکیورٹی سنبھال سکتی ہیں، نیٹو سربراہ

برسلز + کابل (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/اے پی) آئندہ گیارہ ستمبر تک امریکی افواج کے مکمل انخلاء اور نیٹو فورسز کی واپسی کے مد نظر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں صورت حال ایک بار پھرخراب ہو سکتی ہے۔

نیٹو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی فورسزاب اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں وہ تنہا ہی سنبھال سکتی ہیں۔ اس دوران ایک جرمن ترقیاتی ایجنسی نے بین الاقوامی فورسز کی واپسی کے بعد بھی افغانستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مغربی فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ اسٹولٹن برگ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نیٹو نے تقریباً دو عشروں تک افغانستان میں سکیورٹی فراہم کی ہے لیکن اب وہاں کی حکومت اور سکیورٹی فورسزاس قدر مضبوط ہوچکی ہے کہ وہ بین الاقوامی فورسز کی مدد کے بغیر ہی اپنے پاوں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔

اسٹولٹن برگ نے کہا”میں سمجھتا ہوں کہ اب افغان بھی یہ بات اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے بیس برس کے دوران اپنا بہت کچھ جان و مال افغانستان میں لگایا ہے۔”

نیٹو کے چیف کا کہنا تھا”اگر سکیورٹی فورسز کی اہلیت کی بات ہو یا سماجی اور اقتصادی ترقی کی بات، افغانستان ان دونوں شعبوں میں بہت آگے نکل چکا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا ”آخر کبھی نہ کبھی تو افغانوں کو اپنے ملک میں امن اور استحکام کی ذمہ داری خود اٹھانا ہی تھی۔”

سیکورٹی کے خدشات

حالانکہ ایسے میں جب کہ امریکا اور نیٹو افواج نے افغانستان سے واپسی کی تیاریاں شروع کردی ہیں ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گو کہ کابل، حکومت کے قبضے میں ہے لیکن ملک کے بیشتر قصبے اورشہر طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ ملک کے مشرقی صوبے لغمان میں رواں ہفتے اس برس کی شدید ترین جنگ ہوئی۔

اس صورت حال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نیٹو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک افغانستان کی وزارتوں کو صلاح و مشورے اور سکیورٹی فورسز کی مالی معاونت جاری رکھیں گے اس کے علاوہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان’سست رفتاری سے آگے بڑھنے والی‘ مذاکرات کی بھی حمایت کریں گے۔

نیٹو چیف کا مزید کہنا تھا ”ہم افغان سکیورٹی فورسز کو ملک کے باہر تربیت دینے کے امکان پر بھی غور کررہے ہیں لیکن اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”

افغانستان سے بین الاقوامی فورسز کا انخلاء جاری ہے۔ اس وقت نو ہزار سے بھی کم غیرملکی فوجی افغانستان میں ہیں جن میں تقریباً ساڑھے تین ہزار معاون سویلین عملہ شامل ہے۔ ان سب کو گیارہ ستمبرتک افغانستان سے واپس چلے جانا ہے۔ ایسے میں بہت سے حکام اور تجزیہ کار یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جب امریکا افغانستان سے مکمل طورپر نکل جائے گا تو طالبان وہاں دوبارہ غالب آسکتے ہیں۔

امریکی اعلی فوجی عہدیدار بھی صدر جوبائیڈن کے حکم کی تعمیل کے حوالے سے سنجیدگی سے غور و فکر کر رہے ہیں۔ بائیڈن اور اسٹولٹن برگ 14جون کو برسلز میں مجوزہ نیٹو کی ایک سربراہی کانفرنس میں ملاقات کریں گے۔ اس میٹنگ میں افغانستان کا معاملہ اہم موضو عات میں شامل ہے۔
جب نیٹو کے سربراہ سے سکیورٹی کی ضمانت کے بغیر افغانستان سے انخلا کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا”افغانستان میں نیٹو کے ملٹری مشن کو ختم کرنے کے فیصلے سے خطرہ تو بہر حال موجود ہے۔ لیکن ہمیں نہایت شفاف اور کھلے آنکھ سے سب کچھ دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم وہاں موجود رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے بھی اپنے خطرات ہیں۔ زیادہ جنگ کا خطرہ ہے، وہاں افواج کی تعداد میں اضافہ کرنے کا خطرہ ہے اور مسلسل فوجی مشن کو برقرار رکھنے کا خطرہ ہے۔”

نیٹو نے افغانستان میں سن 2003 میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں اٹھائی تھیں جبکہ امریکہ نے اس سے دو سال قبل اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کو پکڑنے کی کوشش میں طالبان کو حکومت سے معزول کر دیا تھا۔

جرمن ایجنسی خدمات جاری رکھے گی

دریں اثنا جرمن ترقیاتی ایجنسی ‘جرمن کوآپریشن فار انٹرنیشنل کوآپریشن‘ (جی آئی زیڈ) نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فورسز کی واپسی کے بعد بھی وہ افغانستان میں اپنی تعمیراتی خدمات جاری رکھنا چاہتی ہے۔

جی آئی زیڈ کی ترجمان نے کہا ‘‘ مشکل حالات کے باوجود ہم کام کرنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے تقریباً ایک ہزار افراد جرمن حکومت کی ترقیاتی پروجیکٹوں کو نافذ کرنے کے لیے ان کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم ایسے علاقوں میں زیادہ سرگرم نہیں ہے جن پر طالبان کا کنٹرول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں