اسرائیل فلسطین تنازع: انسانی حقوق کا ’چیمپیئن‘ پاکستان خود شیشے کے محل کا مکین ہے، اسرائیلی وزارت خارجہ

یروشلم (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسرائیلی وزارت خارجہ کے جنرل مینیجر ایلون یوشپز نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے اس (پاکستان) کی توجہ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کی طرف مبذول کروائی ہے۔

انھوں نے اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں لکھا ’انسانی حقوق کا ’چیمپیئن‘ پاکستان، جو عملی طور پر شیشے کے محل میں رہتا ہے، مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوریت (اسرائیل) کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے خصوصی سیشن میں (انسانی حقوق کی) تبلیغ کر رہا ہے۔ یہ منافقت کی بہترین مثال ہے۔‘

اپنی اس طنزیہ ٹویٹ کے ساتھ ایلون یوشپز نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سنہ 2020 میں جاری کردہ ایک رپورٹ کا لنک بھی چسپاں کیا ہے، یہ رپورٹ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی اس رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایلون یوشپز کی اس ٹویٹ تنقیدی ٹویٹ کو اسرائیل کی وزرات خارجہ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ری ٹویٹ بھی کیا گیا ہے۔

اسرائیلی رد عمل کی وجہ

اسرائیلی وزارت خارجہ کے اعلیٰ اہلکار کی جانب سے یہ ٹویٹ پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک اعلامیے کے پس منظر میں کی گئی ہے۔

اس اعلامیے میں، جو پاکستانی وزارت خارجہ کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا، آگاہ کیا گیا تھا کہ ’آج (27 مئی) مقبوضہ فلسطینی علاقے بشمول مشرقی یروشلم میں انسانی حقوق کی خوفناک صورتحال پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا خصوصی اجلاس ہو گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود اس اجلاس سے خطاب کریں گے اور کمیشن کو پاکستان کی (اس تناظر میں) توقعات سے آگاہ کریں گے۔‘

یاد رہے کہ جمعرات کے روز ہونے والے انسانی حقوق کمیشن کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان بھی ان 24 ممالک میں شامل تھا جنھوں نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یو این ایچ آر سی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان اقوام متحدہ میں علاقائی امن اور استحکام کے ساتھ انسانی حقوق کی حمایت جاری رکھے گا۔‘

اجلاس میں خطاب سے دوران شاہ محمود قریشی نے فلسطینیوں کا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کو کشمیر کے معاملات میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’جموں و کشمیر اور فلسطینیوں کے حالات میں مماثلت ہے۔ دونوں مقامات کے شہریوں کے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ دونوں مقامات کے شہریوں کو حق خودارادیت حاصل ہو۔ دونوں ہی معاملات میں اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

گذشتہ روز پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے انعقاد میں مسٹر بوزکیر کے کردار کی تعریف کی۔‘

’انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک قابل عمل، آزاد اور متمول فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور کرتے ہوئے، ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کی سہولت کے لیے اقدامات کرنا چاہیں جو فلسطینی ریاست کی 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ہو۔ جس کا دارالحکومت القدس شریف ہے۔‘

اسرائیل اور غزہ تنازع: اقوام متحدہ کا ادارہ تشدد کی تحقیقات کرے گا

گذشتہ روز ہی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیل اور حماس کے مابین حالیہ لڑائی میں تشدد کی تحقیقات کے لیے ووٹ دیا ہے۔

اس تنظیم نے اسلامی ممالک کے ایک گروپ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو نو کے مقابلے میں 24 ووٹوں سے منظور کیا۔

تاہم دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں امن لانے کی پیشرفت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

11 دن کی شدید لڑائی کے دوران غزہ میں بچوں اور خواتین سمیت کم از کم 242 افراد مارے گئے جبکہ اسرائیل میں 13 ہلاکتیں ہوئیں۔ گذشتہ جمعہ کو مصر کی ثالٹی کی وجہ سے اسرائیل اور حماس نے سیز فائر کیا تھا۔

تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) اور فلسطینی وفد کی جانب سے لائی جانے والی اس قرارداد کے متن میں اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ میں حقوق پامال ہونے کی اطلاعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس میں ’بار بار کشیدگی، عدم استحکام اور تنازعات کی روک تھام کی بنیادی وجوہات‘ کو جاننے کے لیے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے قرارداد کا خیرمقدم

پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں سے متعلق انسانی حقوق کمیشن کی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزرات خارجہ کی جانب جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (ایچ آر سی) کی جانب سے تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) کے زیر قیادت قرارداد کو قبول کرنے کا خیرمقدم کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حقوق انسانی کی پامالیوں کی تحقیقات کے لیے ایچ آر سی کا خصوصی اجلاس اور بین الاقوامی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ عدم استحکام اور ناانصافی کو ختم کرنے اور معنی خیز احتساب کا عمل شروع کرنے کے عالمی عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

وزرات خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ فلسطین کے عوام کے حقوق اور وقار کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اس قرارداد پر مؤثر عملدرآمد کا خواہشمند ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور ابتدا ہی سے فلسطین کے مؤقف کی تائید کرتا آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں