دہشتگردی کیس: سی ٹی ڈی کراچی نے ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس احمد ایڈووکیٹ کو طلب کرلیا

کراچی (ڈیلی اردو) سی ٹی ڈی حکام نے گرفتار دہشت گردوں کی تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں سربراہ تنظیم ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار اور ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماء انیس احمد ایڈووکیٹ کو کل طلب کرلیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق 28 مئی کو کراچی کے عللاقے کینٹ اسٹیشن کے قریب کارروائی کے دوران ملزمان عمران احمد ، نعیم احمد اور علیم الدین کو گرفتار کیا گیا جوکہ حیدرآباد کے ایم کیو ایم کے سینئر کارکن اور کئی اعلیٰ تنظیمی عہدوں پر بھی رہ چکے تھے، یہ ملزمان را سے تربیت یافتہ تھے، ملزمان نے را سے منسلک کرانے میں ڈاکٹر فاروق ستار کی معاونت کے بارے میں بتایا تھا، ان کی تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں سی ٹی ڈی حکام نے ہفتہ کو سربراہ تنظیم ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار کو طلب کرلیا، جمعہ کو پی آئی بی کالونی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر طلبی کا نوٹس بھی وصول کرایا گیا۔

تفتیشی افسر انسپکٹر ظفر عباس کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ان کا رابطہ ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کرایا تھا۔

سی ٹی ڈی کے سینئر افسر کا کہنا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے رہنماء انیس احمد ایڈووکیٹ کو بھی ان واقعات سے تعلق پر سمن جاری کیا گیا ہے۔ اُنہیں کل دو پہر سی ٹی ڈی ہیڈ آفس پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزمان کی جانب سے دہشت گردی میں مبینہ طور پر ایم کیو ایم حیدرآباد کی سابقہ قیادت کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ڈاکٹر فاروق ستار نے نوٹس وصول کرنے کے بعد دونوں ملزمان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان دونوں افراد کو نہیں جانتے، کسی کے بھی نام لینے سے نوٹس جاری کردیا جاتا ہے تو ماضی میں وزیراعلیٰ کا بھی نام لیا گیا تھا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے سوال کیا کہ کیا وزیراعلیٰ کو طلب کیا گیا، کیا انھیں نوٹس جاری کیا گیا، اگر وزیراعلیٰ کو بھی طلب کیا جائے تو وہ بھی پیش ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے طلب کیا جانا اگر انتقامی کارروائی نہیں ہوگی تو وہ ضرور اپنے جوابات سے حکام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں