کینیڈین وزیراعظم کی کیتھولک چرچ پر کڑی تنقید

اوٹاوا (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو/اے ایف پی/اے پی) کینیڈا میں ایک اسکول کی عمارت میں سے 215 بچوں کی نعشیں برآمد ہونے کے واقعے پر لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی قدیمی لوگوں کے بچوں کی نعشیں ایک گرجا گھر کی زیر نگرانی چلنے والے اسکول میں سے ملی ہیں۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کیتھولک چرچ کے ایک بورڈنگ ہاؤس اسکول میں سے دو سو سے زائد بچوں کی باقیات ملنے پر کہا ہے کہ اس واقعے کی ذمہ داری کا اعتراف چرچ کو کرنا چاہیے۔ اس مناسبت سے انہوں نے کیتھولک عقیدے کے روحانی مرکز ویٹیکن سے بھی کہا کہ وہ آگے بڑھے اور اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرے۔

بچوں کی باقیات کینیڈین صوبے برٹش کولمبیا کے ایک بورڈنگ ہاؤس اسکول سے ملی ہیں۔ کیملوپس انڈین بورڈنگ اسکول میں نعشوں کی دریافت رواں برس اختتامِ مئی میں ہوئی تھی۔

کیتھولک چرچ کی خاموشی

ابھی تک بچوں کی باقیات ملنے پر چرچ نے کوئی بیان جاری نہیں کیا اور خاموشی کی چادر تان رکھی ہے۔ اس تناظر میں کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جمعہ 4 جون کو ایک پریس کانفرنس میں چرچ کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے چرچ کی نگرانی میں قائم بورڈنگ اسکولوں کی تفصیلات عام کرنے کے معاملے میں مسیحی مذہبی رہنماؤں کی مداخلت اور رکاوٹ پیدا کرنے کی مذمت کی ہے۔

جسٹن ٹروڈو کے مطابق چار برس قبل جب وہ ویٹیکن گئے تھے تب بھی انہوں چرچ کی زیادتیوں کا نوٹس لینے کی بات کی تھی لیکن اس معاملے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور مزاحمت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ کینیڈین وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ اگر کیتھولک حکام بورڈنگ ہاؤس اسکول کی تفصیلات عام نہیں کرتا تو سخت تادیبی اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کہ وہ بھی کیتھولک عقیدے کے حامل ہیں اور انہیں چرچ کے رویے سے مایوسی ہوئی ہے۔

زیادتیوں کا ذمہ دار کون؟

کینیڈا میں سن 1840ء سے لے کر سن 1996ء کے دوران حکومت اور مذہبی اداروں کی زیرنگرانی قائم بورڈنگ ہاؤس اسکولوں کی تعداد ایک سو سے زائد تھی اور کیملوپس انڈین بورڈنگ اسکول ان میں شامل تھا۔ سارے کینیڈا میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم دینے کے لیے والدین سے جدا کیا گیا اور انہیں بورڈنگ ہاؤس اسکولوں میں منتقل کر دیا گیا۔ اس کا مقصد مقامی قدیمی آبادی کے بچوں اور آباد کاروں کے بچوں میں یورپی نو آبادیاتی کلچر کا فروغ تھا۔

ان بورڈنک اسکولوں میں تشدد اور جنسی زیادتیاں عام تھیں۔ اس دوران بچوں کو زبردستی مسیحی مذہب اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اس تناظر میں کینیڈین حکومت نے ازالہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اُس دور میں بچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر یونائیٹڈ، پریسبیٹیرین اور اینجلیکن چرچ معذرت پیش کر چکے ہیں۔ ابھی تک کیتھولک چرچ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ایک مثبت پیش رفت یہ ہے کہ کینیڈین شہر وینکوور کے کیتھولک آرچ بشپ نے بدھ دو جون کو کیملوپس انڈین بورڈنگ ہاؤس اسکول میں بچوں کی باقیات ملنے پر افسوس کے اظہار کے ساتھ معذرت پیش کی۔ دوسری جانب رومن کیتھولک چرچ یا ویٹیکن کی جانب سے اس بابت کچھ بھی نہیں کہا گیا۔

سن 2018ء میں کینیڈین کیتھولک بشپس کی کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ بورڈنگ ہاؤس اسکولوں میں ہونے والی زیادتیوں پر پاپائے روم ذاتی طور پر معذرت پیش کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں