شام میں الشفا ہسپتال اور شہری آبادی پر گولہ باری، 13 افراد ہلاک

دمشق (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/روئٹرز/اے ایف پی) شام کے شمالی شہر عفرین میں ایک ہسپتال اور شہری آبادی پر توپ خانے سے گولہ باری کے دو مختلف واقعات میں کم از کم تیرہ افراد مارے گئے۔ مقامی ذرائع اور ترک حکومتی بیانات کے مطابق اس گولہ باری میں کئی افراد زخمی بھی ہو گئے۔

شامی شہر ادلب سے اتوار تیرہ جون کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق عفرین میں توپ خانے سے کی گئی گولہ باری کے ذریعے پہلے حملے میں ایک مقامی شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس کے کچھ ہی دیر بعد دوسرا حملہ ایک مقامی ہسپتال پر کیا گیا۔ شہری دفاع کے کارکنوں کے مطابق یہ گولہ باری ہفتے کی شام کی گئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان حملوں کے بعد کی ویڈیو فوٹیج میں زخمیوں اور گولہ باری سے الشفا ہسپتال میں ہونے والی تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

ترک حکومت کا شامی کرد ملیشیا پر الزام
انقرہ میں ترک حکومت نے عفرین میں اس ہلاکت خیز گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کے ایما پر سیریئن ڈیموکریٹک فورسز ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں نے کیے، جنہیں امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے، جن میں شامی کرد ملیشیا گروپ وائی پی جی ایک بڑی عسکری قوت ہے، کہا ہے کہ ان کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شام میں ترک فوجی موجودگی

ترکی شامی کردوں کے وائی پی جی ملیشیا گروپ کو اس لیے ایک دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے کہ اس کے کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے کے ساتھ روابط ہیں، جو ترکی میں ایک ممنوعہ کرد عسکریت پسند تنظیم ہے۔

اسی لیے ترکی اب تک شامی باغیوں کے مختلف گروپوں کی مدد سے وائی پی جی کے خلاف بہت سی عسکری کارروائیاں بھی کر چکا ہے تاکہ اس ملیشیا کے مسلح ارکان کو شام کے ساتھ اپنے سرحدی علاقوں سے بہت پیچھے تک دھکیل سکے۔

اس عسکری مہم کے لیے ترکی نے شامی سرحدی علاقوں میں اپنے جو فوجی تعینات کر رکھے ہیں، ان کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔

کم از کم تیرہ ہلاکتیں

انقرہ میں ترک وزارت دفاع کے مطابق عفرین میں گولہ باری کے ان تازہ واقعات میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہوئے۔

شامی شہر عفرین سے ملحقہ ترک صوبے کے گورنر کے دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ توپ خانے سے یہ حملے تل رفعت نامی اس شامی علاقے سے کیے گئے، جو زیادہ تر دمشق حکومت کی حامی فورسز کے کنٹرول میں ہے اور جہاں شامی کردوں کی وائی پی جی ملیشیا تنظیم بھی فعال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں