اسلام آباد: دیر کا رہائشی سی ٹی ڈی کی حراست میں ہلاک، 3 اہلکار گرفتار

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس کے زیر حراست ایک 16 سالہ ملزم کی ہلاکت کے معاملے پر پولیس کے تین اہلکاروں کو فرائض میں غفلت برتنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اب ان پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

راولپنڈی کے علاقے بنگش کالونی کے رہائشی ملزم حسن خان کو چند روز قبل دو پولیس اہلکاروں کے قتل کے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں رکھا گیا تھا۔

ملزم کی والدہ نے پولیس پر دوران حراست مبینہ تشدد کر کے بیٹے کی ہلاکت کا الزام عائد کیا ہے۔ ملزم کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’میرے بیٹے کو پولیس نے تشدد کر کے ہلاک کیا ہے۔‘

ملزم کے ورثا نے سنیچر کو کئی گھنٹوں تک اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان مرکزی شاہراہ آئی جے پی روڈ پر لاش کو رکھ کر احتجاج جاری رکھا۔ تاہم شام کو انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات طے پاگئے اور احتجاج ختم کر دیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ان اہلکاروں کو لاپرواہی کے الزام پر گرفتار کر کے ایف آئی آر کاٹی گئی تھی مگر بعد ازاں مظاہرین کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اس میں قتل کی دفعہ 302 کا اضافہ کیا گیا ہے۔

پولیس کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’انکوائری کے بعد لاپرواہی کے ذمے دار افسران کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ کیس سے متعلق ہر پیشرفت کا آئی جی اسلام آباد ازخود جائزہ لے رہے ہیں۔‘

اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز مصطفی تنویر کا کہنا ہے کہ ملزم حسن خان کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت کے واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹ ہوچکا ہوگیا ہے اور رپورٹ لاہور بھجوا دی گئی ہے۔ ایک ہفتے میں اس کی عبوری رپورٹ آجائے گی کہ آیا موت کی وجہ بخار تھی یا تشدد۔

خیال رہے کہ ملزم کو انسداد دہشت گردی سکواڈ کی حوالات میں رکھا گیا تھا اور پولیس ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکاروں کے قتل کے واقعے کی تفتیش انسپکٹر شمس اکبر اور انسپکٹر فیاض رانجھا کر رہے تھے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ’ملزم نے دوران حراست حوالات کے اندر اپنا سر سلاخوں کے ساتھ مارنا شروع کر دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا، اسے طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال پہنچایا گیا تاہم جب ملزم کی حالت بہتر ہوئی تو اسے دوبارہ سی ٹی ڈی کے تھانے میں بند کر دیا گیا۔‘

پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’جب ملزم کو دوبارہ حوالات میں بند کیا گیا تو اس وقت اس کی حالت ٹھیک تھی تاہم کچھ دیر کے بعد حوالات کے باہر ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل قیصر خان نے تھانے کے محرر کو اطلاع دی کہ ملزم کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ تھانے کے محرر نے جب حوالات کا دروازہ کھولا تو ملزم کو شدید بخار تھا جس سے اس کی موت واقع ہوئی ہے۔‘

واضح رہے کہ پولیس ایف آئی آر میں اس بات کا کہیں پر بھی ذکر نہیں کہ جب ملزم کو سخت بخار تھا تو کیا اسے دوبارہ مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا یا کسی ڈاکٹر نے ملزم کی موت کی وجہ بخار قرار دیا۔

سی ٹی ڈی تھانے میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافی کو بتایا کہ ملزم کو چند روز قبل دو پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا تاہم نہ ہی اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی اور نہ ہی ریمانڈ کے لیے کسی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ’دوران حراست ملزم کی ہلاکت کے بعد اس کی پولیس اہلکاروں کے قتل میں گرفتاری ڈالی گئی۔‘

پولیس اہلکار کے مطابق سی آئی اے پولیس نے کچھ عرصہ قبل چوری کے ایک مقدمے میں بھی ملزم حسن خان کو گرفتار کیا تھا تاہم متعلقہ عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر حسن خان کو بری کر دیا تھا۔

’میرے بیٹے کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے‘

پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والے ملزم حسن خان کی والدہ حضرت بی بی کا کہنا تھا کہ ’چند روز قبل اسلام آباد پولیس کے تفتیشی ادارے سی آئی اے کے حکام نے انھیں طلب کیا جس کی بنا پر وہ اپنے بیٹے کو لے کر سی آئی اے پہنچ گئیں۔ جہاں پولیس حکام نے انھیں بتایا کہ دو پولیس اہلکاروں کے قتل کی تفتیش کے لیے انھیں اور ان کے بیٹے کو بلایا گیا ہے۔‘

حضرت بی بی نے پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ سی آئی اے کے دفتر سے باہر نکل رہی تھی تو پولیس کی گاڑیاں باہر کھڑی تھیں اور پولیس اہلکاروں نے زبردستی انھیں اور ان کے بیٹے کو گاڑی میں ڈالا اور نامعلوم مقام پر لے گئے۔‘

انھوں نے پولیس پر دوران سفر گاڑی میں ان پر اور ان کے بیٹے پر تشدد کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

حضرت بی بی کے مطابق ’پولیس اہلکاروں نے کچھ دور جاکر انھیں گاڑی سے نکال کر قریبی جنگل میں پھینک دیا جبکہ ان کے 16 سالہ بیٹے حسن کو اپنے ساتھ لے گئے اور جاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر انھوں نے اس بارے میں کسی کو بتایا تو یہ ان کے اور ان کے بیٹے کے حق میں بہتر نہیں ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی سلامتی کے لیے دس روز تک خاموش رہیں اور 11ویں روز پولیس اہلکاروں نے ان کے بیٹے کی لاش ان کے حوالے کر دی۔

حضرت بی بی نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے حسن خان کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کے بازوؤں پر کرنٹ لگنے کے نشانات ہیں جبکہ اس کے علاوہ ان کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے بھی نشانات پائے گئے ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اس مقدمے کے تفتیشی انسپکٹر شمس اکبر نے کہا تھا کہ جب وہ دو پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں ملزم حسن خان سے اقبال جرم کروائے گے تو ان کی ترقی ہو گی۔‘

حضرت بی بی کا کہنا تھا کہ اگر ان کا بیٹا اس مقدمے میں ملوث تھا تو اسے عدالت میں پیش کرتے اور اگر ان کا بیٹا قصور وار ہوتا تو عدالت اس کو سزا سناتی۔ انھوں نے کہا کہ ’قانون کے رکھوالوں نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔‘

اسلام پولیس کے مطابق درجنوں مظاہرین نے آئی جے پی روڈ پر لاش کو رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کو انصاف نہیں ملتا اس وقت تک وہ نہ تو مظاہرہ ختم کریں گے اور نہ ہی لاش کو دفنائیں گے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل بھی سرینگر ہائی وے پر اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے سکینڈ ایئر کے طالب علم اسامہ ستی کو نہ رکنے کی بنا کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور بعد ازاں انھیں ڈاکو قرار دیتے ہوئے ان کی ہلاکت کو پولیس مقابلہ ظاہر کیا تھا۔

اسامہ ستی کے قتل کے مقدمے میں پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا تھا اور ان دنوں پانچوں ملزمان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں