سیکس ویڈیو وائرل: مفتی عزیز الرحمن نے مدرسہ میں طالب علم سے جنسی زیادتی کا اعتراف کر لیا

لاہور (ڈیلی اردو) مدرسہ جامعہ منظور الاسلام کے مفتی عزیز الرحمن نے مدرسہ میں طالب علم صابر سے جنسی زیادتی کا اعتراف کر لیا۔

گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھی، پنجاب سے جے یو آئی ف کے مرکزی رہنما اور مدرسہ جامعہ منظور الاسلام لاہور کے استاد مفتی عزیز الرحمن کی مدرسے کے طالب علم صابر کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی ویڈیو منطر عام پر آئی تھی۔

مفتی عزیزی الرحمن نے اس ویڈیو سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دے دیا تھا تاہم اب اس مدرسے کے مہتمم اور صدر نے اس ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے مفتی عزیز کو مدرسے سے نکال دیا ہے۔

مدرسے کے مہتمم اور صدر کی جانب سے مفتی عزیز کو نکالے جانے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا گیا ہے۔

اس تمام صورتحال میں مدرسے کے ناظم خلیل اللہ ابراہیم کی جانب سے ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ صابر نامی لڑکا ان کے پاس کچھ عرصہ پہلے آیا اور مفتی عزیز الرحمن کے خلاف شکایت کی تھی لیکن مجھے لڑکے کی بات پر یقین نہیں تھا تو کچھ عرصہ بعد وہ ان کے پاس ویڈیو بھی لے آیا۔ جب واقعے کی تحقیقات کی گئی تو مفتی عزیز الرحمن کو مدرسے سے ہٹا دیا گیا اور اب مفتی کا جامعہ منظور الاسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد مفتی عزیز الرحمن کو برطرف کردیا گیا انہوں نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے۔

واضح رہے کہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے طالب علم صابر کا کہنا ہے کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

طالب علم نے مزید کہا کہ اس نے سب سے بات کی ہے لیکن نہ تو اسے انصاف ملا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کی بات سنی ہے جبکہ اس نے سب سے بات کی ہے تو اس کا آخری فیصلہ ہے کہ وہ خودکشی کر رہا ہے کیونکہ انہوں نے اسے جان سے مارنا ہے تو اس سے اچھا ہے کہ وہ خودکشی کر لے۔ ویڈیو میں صابر کو روتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب مفتی عزیز الرحمن کا موقف بھی سامنے آیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سینئر صحافی جمیل فاروقی نے مفتی عزیز الرحمن کا ویڈیو پیغام شئر کیا ہے، ساتھ ہی تحریر کیا ہے کہ مفتی عزیز الرحمن نے اپنی دانست میں زبردست کہانی گھڑی ہے لیکن موصوف کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ اعتراف جرم کر بیٹھے ہیں 10 منٹ کے مکمل وضاحتی بیان میں عالی مرتبت نے پہلے تو ویڈیو کو فیک قرار دیا پھر اپنی ہی بات سے پلٹ گئے حتیٰ کہ مدرسے کی انتظامیہ کے برطرفی لیٹر کو اپنے خلاف سازش قرار دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں