لاہور: شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج

لاہور (ڈیلی اردو) پنجاب پولیس نے لاہور میں معروف دینی درسگاہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے شیخ الحدیث اور جمعیت علما اسلام لاہور کے نائب امیر مفتی عزیزالرحمن کے خلاف مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مقدمہ تھانہ شمالی چھاؤنی میں زیادتی کا شکار مدرسے طالب علم صابر شاہ کی مدعیت میں مفتی عزیز الرحمن، ان کے بیٹوں اور دو نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

مقدمے میں زیادتی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کی دفعات شامل کی گئیں ہیں، ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدرسہ طالب علم کو اغوا کرنے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی ہیں۔

مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے خلاف چھاپے مار کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

اس سے پہلے مفتی عزیز الرحمان کو مدرسے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ گزشتہ روز مدرسے میں استاد کی طالبعلم سے مبینہ زیادتی کی ویڈیو سوشل پر وائرل ہوئی تھی۔

مدرسے کے طالبعلم سے مبینہ زیادتی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کا بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ ویڈیو ڈھائی تین سال پرانی ہے اور طالبعلم صابر شاہ کو میرے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔

مفتی عزیز الرحمن کا کہنا تھاکہ حلفیہ کہتا ہوں میں نے ہوش و حواس میں ایسا کوئی فعل نہیں کیا، مجھے نشہ آور چیز پلائی گئی، میں ہوش و حواس میں نہیں تھا۔

مفتی عزیز الرحمن نے دعویٰ کیا ہے کہ کیس کا مرکزی کردار صابر شاہ فرار ہے۔

ادھر پنجاب کی معروف دینی درسگاہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے شیخ الحدیث اور جمعیت علما اسلام لاہور کے نائب امیر مفتی عزیزالرحمن کی مدرسے کے ایک طالبعلم کے ساتھ غیراخلاقی ویڈیو سامنے آنے پر جامعہ منظورالاسلامیہ نے انہیں مدرسے سے فارغ کرکے ان سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب وفاق المدارس نے ان کو ذمہ داری سے فارغ کردیا ہے اور وفاق المدارس پاکستان نے جامعہ منظورالاسلامیہ کا الحاق بھی ختم کردیا ہے تاہم مولانا عزیزالرحمن نے اس ویڈیو کو جامعہ منظورالاسلامیہ اور وفاق المدارس کے خلاف ایک سازش قراردیا ہے۔

گزشتہ چند روز سے مفتی عزیزالرحمن کی مدرسے کے ایک نوجوان طالب علم صابر شاہ کے ساتھ غیراخلاقی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وفاق المدارس پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے مفتی عزیزالرحمن کو وفاق المدارس العربیہ کے عہدے سے فارغ کر دیا ہے اور انہیں تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر جامعہ منظورالاسلامیہ کینٹ کے مہتمم مولانا اسداللہ فاروق کی طرف سے جاری نوٹس میں مولانا عزیزالرحمن کو اس گناہ ملوث ہونے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مدرسے سے فارغ کردیا گیا ہے اور انہیں مدرسہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیال رہے مفتی عزیزالرحمن کے بیٹے مولانا الطاف الرحمن بھی اسے مدرسے کے استاد ہیں۔

مولانا عزیزالرحمن نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ یہ مدرسہ اور وفاق المدارس کے خلاف سازش ہے، وہ 25 سال سے تدریس سے وابستہ ہیں، ڈیڑھ سال قبل بھی ان پر اسی طرح کے الزامات لگائے گئے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی لیکن تحقیقات کے بعد انہیں بیگناہ قرار دیا گیا۔

مفتی عزیزالرحمن کا کہنا تھا کہ اب مدرسہ کے سابق سربراہ پیر سیف اللہ خالد کی وفات کی بعد ان کے بیٹے پیر اسد اللہ فاروق جامعہ منظور الاسلامیہ کے مہتتم ہیں وہ اور ان کے ایک اور قاری دونوں کو یہ خطرہ ہے کہ میں مدرسہ پر قبضہ کرلوں گا، انہوں نے میرے خلاف پہلے مدرسہ پر قبضہ کرنے کی مہم چلائی اوراب اس سازش کے پیچھے بھی ان کا ہاتھ ہے، جس طالب علم صابر شاہ نے الزام لگایا ہے اسے امتحانات میں اپنی جگہ دوسرے لڑکے کو بٹھانے کے الزام میں تین سال کے لئے نااہل قراردیا گیا تھا۔

مدرسے طالب علم سے زیادتی کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ہے اور صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے مشرق وسطی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ جرم ثابت ہو جائے تو طالب علم سے زیادتی کے مجرم کو الٹا لٹکا دیا جائے۔

ایک بیان میں متحدہ علماء بورڈ کے چیئرمین اور وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے مشرق وسطی علامہ طاہر اشرفی نے مفتی عزیز الرحمن کی مبینہ لیک ویڈیو کے حوالے سے یہ بات کہی ہے۔

طاہر اشرفی مزید یہ کہنا تھا کہ کسی شخص کے انفرادی فعل کو ادارے سے جوڑنا مناسب نہیں، واقعے کی فرانزک تحقیقات کرائی جائیں۔ وفاق المدارس کو واقعے کا علم ہونے پر پہلے ہی نوٹس لینا چاہیئے تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں