امریکی ڈرون حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر نور ولی محسود کی ہلاکت کی اطلاع

اسلام آباد (ڈیلی اردو) کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر نور ولی محسود کے افغانستان میں مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر مفتی نور ولی محسود کے افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتی نور ولی کا محافظ انقلابی محسود بھی ڈرون حملے میں مارا گیا۔

مفتی نور ولی کا شمار کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈرز میں ہوتا تھا، ذرائع کے مطابق مفتی نور ولی قبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد افغانستان روپوش ہوگیا تھا۔

باوثوق افغان ذرائع مفتی نور ولی کے مارے جانے کی تصدیق کررہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مفتی نور ولی کے مارے جانے کی اب تک تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما و امیر نور ولی محسود کو اقوام متحدہ کی داعش اور القاعدہ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا اور اس کے اثاثے منجمد کر کے اس پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد جون 2018 میں مفتی نور ولی محسود کو تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کیا تھا۔

مفتی نور ولی محسود کون ہیں؟

پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ مولوی فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد سال 2018 میں مفتی نور ولی محسود کو اس تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

مولوی فضل اللہ 13 جون 2018 کو امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے تھے جس کے بعد 23 جون کو تحریک طالبان کی شوریٰ نے باہمی مشاورت کے بعد مفتی نور ولی محسود کو تنظیم کی رہبری کی ذمہ داریاں سونپی کی تھیں۔

نور ولی محسود کو فروری سال 2018 میں خالد سجنا کی ہلاکت کے بعد حلقہ محسود کے جنگجوؤں کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ مفتی نور ولی سابق امیر بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی تھے اور ماضی میں تحریک کی اہم ذمہ داریاں سنبھالتے آ رہے ہیں۔

مفتی نور ولی ایک مصنف اور مسلح جہادی
نور ولی محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ میں پیدا ہوئے۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جب پاکستانی افواج نے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تو مفتی نور ولی محسود نے اس محاذ میں پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی میں شرکت کی تھی۔

امریکی ڈرون نے سال 2014 میں جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں نور ولی محسود کے ایک ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے اور آٹھ ساتھی مارے گئے تھے۔

مفتی نور ولی محسود نے حال ہی میں 690 صفحات پر مبنی ‘انقلاب محسود، ساؤتھ وزیرستان – فرنگی راج سے امریکی سامراج تک’ نامی ایک تفصیلی کتاب لکھی تھی۔

اس کتاب میں پہلی مرتبہ تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو پر کارساز، کراچی اور راولپنڈی میں حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس سے قبل طالبان اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔

مفتی نور ولی محسود کے بقول اس کا مقصد یہ تھا کہ شدت پسند ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ سکیں اور انھیں مستقبل میں نہ دہرائیں۔ ایک اور وجہ ان کے بقول تجزیہ نگاروں، محققین اور مؤرخین کی ‘تصحیح’ کی جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں