خیبر پختونخوا: بونیر میں توہین مذہب کے الزام میں افغان شہری گرفتار، حالات کشیدہ

بونیر (ڈیلی اردو/ٹی این این) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں افغان نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مومن خان نامی نوجوان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق واقعہ منگل کی شب کو پیش آیا۔ واقعے کے خلاف مقامی لوگوں نے پولیس سٹیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا۔

مظاہرین نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کی کوشیش کی اور ملزم کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس سٹیشن پر حملے کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

آج دوسرے روز بھی مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے پولیس نے ہوائی فائرنگ اور ڈنڈو کا ازادانہ استعمال کیا جس سے کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔ مظاہرین کے پتھراؤں سے تین پولیس بھی زخمی ہوگئے پولیس کی طرف سے صحافیوں پر بھی تشدد کیا گیا، دوسرے روز احتجاجی مظاہرے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔

گزشتہ روز یہ واقعہ ضلع بونیر کے مرکزی بازار سواڑی میں میں پیش آیا تھا جہاں مومن خان ولد اول خان جو افغانی شہری ہے اور سواڑی شہر کے قریب ریگا گاؤں میں رہائش پذیر ہے اس نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ بولے تھے پڑوسی دوکاندار محمد رضوان کے مطابق مومن خان نے کہا کہ اس لڑکے نے بار بار محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی میں اپنے مارکیٹ کے دیگر لوگوں کو اس کے پاس لے کر لایا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی بات پر قائم تھاـ

وہ مارکیٹ جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں کے ایک دکاندار نے کہا کہ میں نے جب مارکیٹ کے دیگر دکانداروں کا غصہ دیکھا جو اس شخص کو مارنے جمع ہورہے تھے تو میں نے تھانہ سٹی کے ایس ایچ او الطاف کو کال کرکے نفری کے ہمراہ جلد پہنچنے کا کہا جب پولیس آگئی اور اس لڑکے کو اپنے ساتھ لےگئے تو پہلے بازار کے دکاندار اور اس کے بعد علاقے کے لوگ تھانے کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئےـ

احتجاجی مظاہرہ آہستہ آہستہ جلسے میں تبدیل ہوگیا علاقہ مشران اور علما کرام نے مشتعل عوام کو روکنے کےلیے ایک کمیٹی بنائی اور پولیس کے ساتھ بیٹھ گئے علما کرام نے پہلے اس لڑکے سے خود پوچھا کہ تم نے اس طرح کوئی گستاخی کی ہے تو اس نے اقرار کیا کہ ہاں مجھ سے یہ غلطی ہوگئی ہے اس کے بعد علمائے کرام کی موجودگی میں چشم دید گواہ محمد رضوان کی مدعیت میں مومن خان ولد اول خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی جس میں 295C- 295A کے دفعات شامل ہیں۔

علاقہ مشران اور علمائے کرام نے مشتعل مظاہرین سے بات کرنے کی کوشش کی مگر مظاہرین ماننے کو تیار نہیں تھے اور مطالبہ کرہے تھے کہ مومن خان کو ہمارے حوالے کردو۔

مظاہرہ جب تشدد کی جانب بڑھنے لگا تو سٹی تھانہ کے سامنے عوام نے سڑک کو ہر قسم ٹریفک کےلیے بند کرکے آگ جلائی تھی علاقہ مشران اور علما کرام نے کوشش کی کہ کس طرح مظاہرین کو قابو کیا جائے مگر کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں تھا ڈی پی او عبدالرشید اور اسسٹنٹ کمشنر موقع پر موجود تھے پی ٹی آئی ضلعی رہنما سید ناصر عباس باچا مظاہرین سے بات چیت کرنے میں مصروف تھے کہ پولیس نے ہوائی فائرنگ شروع کردی اور لاٹھی چارج کا آزادانہ استعمال بھی کیا گیا۔ پولیس کی طرف سے مظاہرین کے ساتھ ساتھ موقع پر موجود صحافیوں پر بھی لاٹھی چارج کیاـ

پولیس کی طرف سے مظاہرین کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا اور سڑک کو ٹریفک کےلیے کھول دی گئی۔ مظاہرے کی وجہ سے سواڑی شہر کو کئ گھنٹوں تک بجلی معطل رہی جس کے باعث عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈی ایس پی ناصر خان نے کہا کہ گستاخی کرنے والا شخص پولیس کی تحویل میں ہے اس کے خلاف علمائے کرام کی موجودگی میں ایف آئی آر بھی درج کردی گئی ہے اس کے ساتھ قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی اور بونیر کے جید علماء کرام کی مشاورت سے ملزم پر گستاخی کے تمام دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے۔

آج بروز منگل کو بازار کے تاجروں نے شہر کے تمام دکانیں بند کرکے سواڑی چوک میں پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرہ سے مقریرن نے کہا کہ علمائے کرام کی مشاورت سے وکلا کو بھی کہتے ہیں کہ کوئی بھی وکیل اس شخص کا کیس نہیں لڑے گا اور ہم سب تاجر مالی و جانی تعاون کرکے گستاخ رسول کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کی بھر پور کوشش کرینگے ان کا کہنا تھا کہ عدالت اور حکومت دونوں اپنا کردار ادا کریں اور اس شخص کو پھانسی پر لٹکادیا جائےـ

طاہر نسیم احمدی کو عدالت میں قتل کیا گیا تھا

یاد رہے کچھ عرصہ قبل پشاور میں خالد نامی نوجوان نے توہین مذہب کے ملزم کو قتل کیا تھا۔ 29 جولائی 2020 کو57 سالہ طاہر احمد نسیم ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران دلائل کے بعد بیٹھے تھے اور جیل منتقلی کا انتظار کر رہے تھے جب انہیں قریب سے متعدد گولیاں ماری گئی تھیں۔

حکام و عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ جب جج کے سامنے طاہر نسیم کے خلاف چارجز پڑھ کر سنائے جارہے تھے اس وقت وہاں موجود ایک نوجوان نے پستول نکالی اور طاہر کے سر پر گولی ماری۔

طاہر نسیم کے خلاف پولیس میں شکایت نوشہرہ کے رہائشی و اسلام آباد میں مدرسے کے طالب علم ملک اویس نے درج کروائی تھی۔ طاہر نسیم پر 4 فروری 2019 کو دفعات 153۔اے، 295۔اے اور 298 کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم ملزم نے ان چارجز کو مسترد اور اپنے دفاع کا فیصلہ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں