افغان فورسز کا 6 ہزار سے زائد طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

کابل (ڈیلی اردو) افغان سیکیورٹی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ ماہ مختلف آپریشنز میں 6 ہزار سے زائد طالبان ہلاک اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

افغان سیکیورٹی فورسز کے ترجمان کے مطابق مختلف صوبوں میں کیے گئے فضائی حملوں میں طالبان کے 491 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان کاروائیوں میں 6 ہزار 33 طالبان جنگجو ہلاک اور 3 ہزار 4 سو 85 زخمی ہوئے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا کے عمل کے دوران، افغانستان کے مختلف صوبوں میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں شدت آگئی ہے۔ طالبان کی جانب سے 91 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ بھی سامنے آچکا ہے جبکہ افغان حکومت نے درجنوں اضلاع طالبان کے قبضے سے چھڑانے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر نے افغان طالبان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان میں نئے علاقوں پر قبضے اور پرتشدد حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو پھر طالبان کو فضائی حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ انخلا کا عمل جاری رکھنے کے باوجود امریکی فوج طالبان کے خلاف فضائی حملے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

جنرل اسکاٹ ملر نے اعتراف کیا کہ کسی بھی علاقے پر قبضے کے ملک کی مجموعی سلامتی اور سیکیورٹی پر اثرات مرتب ہوں گے۔ فوجی قبضہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور یقینی طور پر افغانستان کے لوگوں کے حق میں تو بالکل بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر سیکیورٹی کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جسے افغان سیکیورٹی فورسز نے تسلیم کیا ہے اور جب ہم یہاں سے نکلیں گے تو وہ مناسب ایڈجسٹمنٹ کر لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں