بلوچستان کے لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر ہیومن رائٹس کمیشن کا اظہار تشویش

کوئٹہ (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کے بلوچستان چیپٹر کے چیئرمین ایڈووکیٹ حبیب طاہر نے کہا ہے کہ صوبے میں دو دہائیوں سے جاری بدامنی کے واقعات میں 2020 میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

ایڈووکیٹ حبیب طاہر نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برس میں لوگوں کے لاپتا ہونے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ البتہ لاپتا افراد کے کیسز اب بھی موجود ہیں۔

ایچ آر سی پی کی جاری کردہ رپورٹ میں بلوچستان میں لاپتا افراد کی عدم بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے نئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

لاپتا افراد کے کیسز کے حوالے سے ایڈووکیٹ حبیب طاہر کا کہنا تھا کہ ان میں بعض کیسز ایسے ہوتے ہیں کہ جو لوگ خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں کرتے اسی وجہ سے تھانوں میں ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اور لاپتا شخص کے لواحقین انتظار کرتے ہیں کہ کب ان کے اپنے واپس آئیں گے۔

چیئرمین ایچ آر پی سی بلوچستان چپیٹر کا مزید کہنا تھا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ برس بہت سے لوگ بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ جتنے بھی لاپتا افراد ہے انہیں منظر عام پر لایا جائے۔ اگر ان کے خلاف الزامات ہیں تو قانونی طریقے سے ایف آئی آر درج کی جائے اور مقدمات عدالتوں میں چلائے جائیں۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں بلوچستان سے 24 افراد لاپتا ہونے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ جب کہ مجموعی طور پر 73 لاشیں بر آمد ہونے کی رپورٹ سامنے آئیں۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں اختلاف رائے رکھنے والے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکت کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں کریمہ بلوچ، ساجد حسین، شاہینہ شاہین اور انور جان کھیتران کا قتل سرفہرست ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی رپورٹ پر لاپتا افراد کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران لاپتا افراد کی لاشوں کی برآمدگی کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہے ہیں۔ البتہ کبھی کوئی لاش ملی بھی ہے تو وہ ناقابل شناخت تھی۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ لاپتا فرد کی ہی لاش تھی۔

نصر اللہ بلوچ نے مزید کہا کہ بعض ایسے لوگ ہیں جو خوف کی وجہ سے اپنے پیاروں کی کمشدگی کی اطلاع نہیں دیتے۔ ایسے میں انسانی حقوق کمیشن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان علاقوں کا دورہ کریں اور وہاں لوگوں کے ایسے مسائل کو سامنے لائے۔

گزشتہ ماہ آٹھ جون کو بھی کوئٹہ سے دو نوجوان مبینہ طور پر لاپتا ہوئے تھے۔ ان دونوں نوجوانوں کی گمشدگی کا واقعہ کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ پر بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال کے قریب پیش آیا تھا۔

لاپتا ہونے والے ایک نوجوان قاسم بلوچ کے بھائی عبد الغفار بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قاسم اور ان کا دوسرا دوست بلال بلوچ رواں ماہ آٹھ جون کو بروری روڈ پر ایک ہوٹل میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ اس دوران کچھ مسلح افراد ہوٹل میں داخل ہوئے انہوں نے قاسم اور بلال کو بات چیت کرنے کے بہانے ہوٹل سے باہر بلایا اور بعد میں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

عبد الغفار بلوچ کا کہنا تھا کہ قاسم اور بلال کوئٹہ میں آٹھ جون کو لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے تھے۔ مظاہرہ ختم ہونے کے بعد وہ بروری روڈ آئے تھے جہاں سے وہ لاپتا ہو گئے۔

واضح رہے کہ دونوں نوجوان یکم جولائی کو بازیاب ہو گئے ہیں جس کی تصدیق ان کے اہلِ خانہ نے بھی کی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مذاکرات کے دوران بلوچ نوجوانوں کی بازیابی کے عمل کو ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ البتہ اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جبری طور پر لاپتا کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے قانونی طور پر گرفتار کرکے 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کیا جائے اور اسے اپنی صفائی کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم کے پاس چھ ہزار لاپتا افراد کی فہرست موجود ہے جو انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کو بھی دی تھی جس کا حوالہ انہوں نے قومی اسمبلی میں دیا تھا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک 157 افراد بازیاب ہو چکے ہیں۔

بلوچستان میں لاپتا افراد کا معاملہ پھر زیرِ بحث

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ ضیا اللہ لانگو وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لاپتا افراد کے مسئلے پر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے وزارت سنبھالنے کے بعد پہلی ملاقات ہی لاپتا افراد کی تنظیم کے عہدیداروں سے کی تھی۔

وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو کے بقول وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے انہیں 450 افراد کی فہرست فراہم کی گئی تھی۔ جن ان کی دوسری میٹنگ ہوئی تو 300 افراد بازیاب ہو چکے تھے۔ان کے مطابق اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کس حد تک سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں