دہشتگردی کے حالیہ واقعات: خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ

پشاور (ڈیلی اردو/ٹی این این ) صوبہ خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے جہاں ایک طرف عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے وہاں ان پے در پے حملوں پر سکیورٹی ماہرین نے بھی حالات ایک بار پھر خراب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں پر حملوں، لنڈی کوتل، لاہور اور کوئٹہ میں دھماکوں سے ملک کی سکیورٹی صورتحال ایک پھر ابتر نظر آ رہی ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے خیبرپختونخوا میں مزید واقعات رونما ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانا کالعدم تنظیموں کی حکمت عملی کی تبدیلی سمجھتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئر (ر) سید نذیر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں دہشتگرد کاروائیوں نے ایک بار پھر سر اُٹھایا ہے جن میں شمالی و جنوبی وزیرستان میں افغان بارڈر کے پار سے سیکورٹی فورسز پر حملے اور لاہور میں دھماکہ قابل ذکر ہیں۔

بریگیڈئر (ر) سید نذیر نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت افغانستان میں جنگ کا ماحول گرم ہے اور جب ماحول گرم ہو تو اُس سے دہشتگرد آسانی سے فائدہ اُٹھا کر کاروائیاں کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات ایسی حال میں کہی ہے جب منگل کے دن پاک افغان بارڈر کے قریب شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے پوسٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جن میں دو سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ بدھ کو جنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں تین اہلکار شہید ہوگئے۔

بریگیڈئر سید نذیر نے کہا “قبائلی اضلاع میں دہشتگردی اور نامعلوم افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانا دہشتگردوں کی بدلی گئی حکمت عملی نظر آ رہی ہے جبکہ دوسری طرف افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات میں سُستی خطے کے ماحول کو مزید خراب کرے گا”۔

انہوں نے ماضی میں گزشتہ آپریشنوں کی کامیابیوں کے دعوؤں کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے جنگی ماحول میں کوئی نہیں بتا سکتا کہ حالات مکمل قابو میں آگئے ہیں۔

سید نذیر کے مطابق “انٹیلی جنس بنیاد پر جتنے بھی آپریشنز ہوئے ہیں ان میں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں لیکن حالیہ حملوں سے لگتا ہے کہ کالعدم تنطیموں کے ساتھ کچھ لوگ پاکستان میں بطور سہولت کار تعاؤن کر رہے ہیں یا بارڈر کے اُس پار افغان انٹیلی جنس گھات لگا کر حملہ کر دیتے ہیں “۔

سید نذیر نے کہا کہ جنگ نے کافی طول پکڑ لیا ہے، اس دوران افغانستان میں پاکستان کے مخالف انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشتگرد تنظیموں کو بھی حالات کے مطابق تربیت، وسائل اور معلومات فراہم کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے بارڈر پر باڑ لگانا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسکے روک تھام کیلئے سرحد کے قریب عوام کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔

سیدنذیر کے مطابق ” ماضی میں بارڈر کے قریب قبائلی عمائدین اپنی سرحدات کی حفاظت کرتے تھے، انہیں معلوم تھا کہ کون کہاں سے ہیں اور کون ہیں لیکن بدقسمتی سے آج انہی قبائلی عوام کو انگیج نہیں کیا جا رہا ہے”۔

پاک افغان امور پر نظر رکھنے والے صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ آنے والے دنوں میں خیبرپختونخوا ایک بار پھر دہشتگردی سے متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے قبائلی عمائدین، سکورٹی فورسسز پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ افغان بارڈر کے پار پاکستانی طالبان ایک بار پھر متحد ہوگئے اور ان کی طاقت میں اضافے کی نشانیاں ہمیں یہاں بھی نظر آ رہی ہیں۔

رفعت اللہ نے کہا کہ جب سے امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی فوج کی انخلاء کا اعلان کیا ہے تب سے افغان طالبان نے پش قدمی شروع کی ہے۔

ان کے مطابق اس وقت افغان طالبان کی جانب سے چار سو اضلاع میں نوے اضلاع پر قبضہ کیا ہے اور اسی جنگ کے اثرات براہ راست پاکستان پر نظر آ رہے ہیں۔

رفعت اورکزئی نے بتایا کہ امریکہ کبھی یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قائم ہو جائے کیونکہ انکے حریف ممالک افغانستان کے پڑوسی ممالک ہیں جن میں ایران، روس، چین اور پاکستان شامل ہیں لیکن ان ممالک کو احساس ہونا چاہئے کہ افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے اور امن کی قیام کیلئے مل کر کام کرنا ان کی ضرورت اور مجبوری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں