چائلڈ سولجر: پاکستان پر امریکا کی جانب سے ایک بار پھر پابندیوں کا خدشہ

نیویارک (ڈیلی اردو) افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، چین، امریکا تناؤ اور بھارت امریکا معاشی اور دفاعی اتحاد کے تناظر میں امریکا کو پاکستان کی ضرورت کم ہونے کے ساتھ ہی امریکا کی جانب سے ماضی کی طرح ایک بارپھر لاتعلقی بلکہ پابندیاں لگانے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

امریکی انخلا کے بعد اب امریکا کو بھارت جیسے اتحادی کی موجودگی کے باعث پاکستان کی ضرورت بہت کم ہے۔

اس کاایک و اضح اشارہ چائلڈ پریونیشن ایکٹ کے امریکی قانون کے تحت 2021ء کی 15 ممالک کی جاری کردہ لسٹ میں پاکستان کی شمولیت ہے۔

اس قانون کے تحت امریکی لسٹ میں شامل ممالک پرامریکا کی فوجی امداد، فوجی تربیت و تعاون کے پروگرام سمیت معاشی اور دیگر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں جن میں سکیورٹی اور ملٹری ہتھیاروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

گو کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس امریکی فہرست میں پاکستان کی شمولیت کے امریکی فیصلے کومسترد کیا ہے۔ لیکن امریکی فہرست نہ صرف جاری کی جاچکی ہے بلکہ اگلے مالی سال میں امریکی حکومت کو اس فیصلے پر عمل کرنا لازم ہے البتہ اگر امریکی صدر بائیڈن اگر کسی ملک کے لئے خصوصی عارضی استثنیٰ (WAIVER) جاری کردیں تو پابندیاں وقتی طور پر ملتوی ہوسکتی ہیں۔

دراصل یہ فیصلے اور امریکی اقدام امریکا کی اس عالمی حکمت عملی کاحصہ ہے جس کے تحت امریکا چین کے بڑھتے ہوئی اثرات، معاشی ترقی اور برتری کے چیلنج سے نمٹنا چاہتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے یہ رپورٹ اور 15 ممالک کی یہ لسٹ کوئی ایک دن میں تیار نہیں کی بلکہ کچھ عرصہ سے کام ہورہا تھا اور بائیڈن انتظامیہ نے 15 ممالک کی فہرست جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمرکے افراد کو ”چائلڈ سولجر“ کی کیٹگری میں بھرتی کرنا یا رضاکارانہ خدمت انجام دینے کی ممانعت ہے۔

گوکہ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دنوں میں ”افغان جہاد“ میں حصہ لینے والے کم عمر جوانوں اور غیر ملکیوں کوبھی افغان سرزمین پر خوش آمدید کہنے کی روایت روا رکھی گئی لیکن اب بدلے حالات کے تقاضے اور درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے یہ فیصلی اور اقدامات ضروری ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ اس رپورٹ میں 15 ممالک کے نام شامل کئے گئے ہیں جن کو امریکی چائلڈ پریونیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قراردیا ہے ان میں 12 مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک پاکستان، ترکی، افغانستان، ایران، عراق، لیبیا، مالی، صومالیہ، جنوبی سوڈان، نائیجیریا، شام اور یمن شامل ہیں جبکہ غیر مسلم دنیا کے صرف تین ممالک برما، کانگو اور وینزویلا ہیں۔

دراصل افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد اب امریکا کو بھارت جیسے اتحادی کی موجودگی کے باعث پاکستان کی ضرورت بہت کم ہے دوسرے ہمارے حکمران ہر وقت امریکا کی یکطرفہ خدمت کے لئے ہر دور اور ہر وقت میں حاضر رہے ہیں قوم کو تقریروں اور وعدوں پر رکھ کر ماضی میں حکمرانوں نے فیصلے کرکے امریکا کو خوش رکھا۔ اب چین پر انحصار کی پالیسی پر امریکا ناراض ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں