دہشت گردوں کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے نیب کا خصوصی سیل قائم

اسلام آباد (ڈیلی اردو) قومی احتساب بیورو (نیب) نے مالی جرائم اور وسائل کی غیر قانونی منتقلی کی روک تھام کے لیے انسداد منی لانڈرنگ اور مالی معاونت برائے دہشت گردی کا مقابلہ (اے ایم ایل اینڈ سی ایف ٹی) سیل قائم کردیا۔

رپورٹس کے مطابق تاہم دہشت گردوں کی مالی اعانت کے معاملات کی تحقیقات کرنے کی اصل ذمہ داری ابھی بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پاس ہوگی۔

نیب کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ‘اے ایم ایل اور سی ایف ٹی’ سیل مالیاتی کارروائی اور دہشت گردی کی مالی اعانت کو روکنے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سیکریٹریٹ اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گا۔

2019 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ‘ایف اے ٹی ایف’ کی سفارشات کی بنیاد پر غیر سرکاری تنظیموں کے لیے انسداد منی لانڈرنگ/ دہشت گردی کے لیے مالی اعانت روکنے کے لیے ہدایات جاری کی تھیں۔

نیب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’منی لانڈرنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے اتھارٹی نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی اعانت کا مقابلہ کرنے کے لیے سیل قائم کر دیا ہے۔

نیب کے ایک عہدیدار کے مطابق بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی اے سی) کے رکن ہونے کے ناطے بیورو کے لیے لازم ہے کہ وہ بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے سیل قائم کرے اور ’احتساب سب کے لیے‘ کی پالیسی اپناتے ہوئے پاکستان کو بدعنوانی سے پاک کرے۔

انہوں نے کہا کہ نیب، انسداد بدعنوانی کا ایک اعلیٰ ادارہ ہونے کے ناطے ’آگاہی، روک تھام اور نفاذ‘ پر مشتمل حکمت عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ معاشرے سے اس برائی کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مستقل طور پر مشاورت کی ہے اور کثیرالجہتی حکمت عملی کے ذریعے کرپشن کی قومی لعنت کا خاتمہ کرنے کا عزم جاری رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ نیب کی کارکردگی پر لوگوں کے اعتماد کا ثبوت ہے‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اپنی متاثر کن کارکردگی کی وجہ سے چین نے پاکستان میں جاری پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کی نگرانی کے لیے نیب کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ نیب نے اپنے قیام کے بعد سے ہی قانون کے مطابق براہ راست اور بالواسطہ 814 ارب روپے کی وصولی کی جبکہ 2020 میں 323 ارب روپے کی وصولی ہوئی۔

اس کے علاوہ احتساب عدالتوں میں اس وقت ایک ہزار 273 ریفرنسز پر سماعت جاری ہے جس میں سزا کا تناسب تقریباً 66 فیصد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں