پاکستانی سرحد کے قریب افغان طالبان نے چوکیوں پر قبضہ کرلیا

اسلام آباد + کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور آئے دن ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ انھوں نے ملک کے مختلف علاقوں اور چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ افغان طالبان نے سرحدی صوبے بدخشاں کی مرکزی سرحدی راہداری کے علاوہ متعدد علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تاہم جمعے کو پاکستان کی سرحد پر کارروائی کرتے ہوئے طالبان نے افغان فوج کی پاکستان کے ساتھ سرحد پر واقع چیک پوسٹوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل تاجکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں افغان فورسز پر حملوں اور پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے افغان حکومتی فورسز کے ایک ہزار سے زیادہ اہلکار سرحد پار کر کے تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے وزیر اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے افغان طالبان کی جانب سے صوبہ کنڑ اور قندھار سے جڑی پاکستانی سرحد پر واقع افغان فوج کی چیک پوسٹوں پر حملے کیے گئے۔

ان واقعات کے بعد سابق باجوڑ ایجنسی اور بلوچستان کے ضلع چمن سے ملحقہ علاقوں کے باسیوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

بی بی سی نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تاہم انھوں نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

افغان طالبان کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد کسی پہاڑی علاقے میں موجود ہیں جہاں ارد گرد خار دار تاریں اور باڑ لگی ہوئی ہے۔

ویڈیو میں بات کرنے والا شخص دعوی کرتا ہے کہ وہ اس وقت افغان حکومت کی سرحدی پوسٹ میں موجود ہیں اور وہ افغان فوجیوں کو مار بھگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

تاہم صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر زکوۃ و عشر اور باجوڑ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی انور زیب خان نے کہا کہ اس واقعے کا باجوڑ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ’ہماری فورسز اور سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں۔ وہ سرحد پر اپنے فرائض ادا کررہے ہیں اور اس کے علاوہ سرحد پر باڑ بھی لگائی جا چکی ہے۔’

‘حالات کنڑول میں ہیں۔ حکومت اور ادارے الرٹ ہیں۔ علاقے میں راگھان ڈیم پر سیاحوں کی بڑی تعداد آئی ہوئی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے کاروبار میں مصروف ہیں۔’

سید اخوندزادہ چٹان کا کہنا ہے کہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی کو ٹھیک کرے

مقامی شہریوں میں خوف و ہراس

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی سید اخوندزادہ چٹان کے مطابق جمعہ کے روز شام کے وقت افغان طالبان نے بڑی تعداد نے صوبہ کنڑ ہیڈ کوارٹر خار سے تقریبا تیس کلو میٹر دور غاخی پاس بارڈر پر حملہ کر کے وہاں موجود افغان فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

سابق ایم این اے کے مطابق شہری اس وقت خوف کے عالم میں ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ کہیں وہ دن واپس تو نہیں آنے لگے جب انھیں اپنے حجروں، گھروں، کھیتوں، باغات اور سکولوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔

‘ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس دفعہ بھی ایسا ہوا تو شاید یہ پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا۔’

سابق ایم این اے کا کہنا تھا کہ اب جبکہ افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ منسلک سرحدی علاقوں کو اپنا نشانہ بنا لیا ہے، تو اگر پاکستان اپنی پالیسی ٹھیک نہیں کرے گا تو یہاں حالات خراب ہونے کا خدشہ رہے گا۔

باجوڑ میں افغانستان کی سرحد کے قریب کے علاقے میں موجود ایک شہری کے مطابق انھیں خدشہ ہے کہ کہیں وہ ویسی صورتحال کا شکار نہ ہوجائیں جس کا 1990 کی دہائی میں انھیں سامنا کرنا پڑا۔

‘اُس وقت باجوڑ کے ہر گھر میں بم کا گولہ گرا تھا۔ ہر گھر دھشت گردی سے متاثر ہوا تھا۔ لوگ اپنے گھر بار کو چھوڑ کر دوسرے شہروں میں بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے تھے۔’

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ باجوڑ میں کسی قسم کا خوف و ہراس ہونے کی باتیں غلط ہیں اور ایسے چھوٹے موٹے واقعات تو ہر جگہ ہوتے ہیں مگر کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

افغان طالبان سرحدی علاقوں اور چوکیوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟

دفاعی تجزیہ نگار اور سابق لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب کے مطابق لگتا ہے کہ افغان طالبان منصوبہ بندی کے تحت افغانستان کے ساتھ موجود سرحدی علاقوں پر قبضے کرتے جارہے ہیں۔

‘پہلے انھوں نے شمال میں تاجکستان کے ساتھ موجود سرحدی علاقوں اور چوکیاں پر قبضہ کیا اور اب وہ جنوب کی طرف آرہے ہیں۔ کنڑ اور قندھار کے سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ مجھے یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ لنڈی کوتل میں طورخم بارڈر پر بھی اپنا دباؤ بڑھائیں گے۔ جس کے لیے وہ منصوبہ بندی کررہے ہوں گے۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ بظاہر محسوس ہورہا ہے کہ افغان طالبان یہ سب کچھ اپنی انتہائی دیر پا منصوبہ بندی کے تحت کررہے ہیں۔

‘ہوسکتا ہے کہ وہ کابل کی طرف بڑھنے سے پہلے تمام سرحدی علاقے اپنے قبضے میں کر کے کابل کی موجودہ حکومت کو اپنی مرضی کی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہوں یا ان کی تمام مدد، کمک اور فرار کے راستے بند کرنا چاہتے ہوں۔’

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ سرحدی علاقوں اور کابل سے دور دراز علاقوں میں موجود چوکیوں کی حفاظت پر مامور افغان فوجی طالبان کا زیادہ مقابلہ نہیں کر پائیں گے کیونکہ چوکیوں پر تعنیات فوجیوں کی تعداد چند ہی ہوتی ہے۔

‘ان فوجیوں کو زمینی کمک اور فضائی کمک کی دستیابی میں مسائل ہیں جبکہ افغان طالبان بڑی تعداد میں اکھٹے ہو کر حملے کرکے یہ چوکیاں اپنے قبضے میں کررہے ہیں۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے لیے کابل اور افغانستان کے شہری علاقے آسان ثابت نہیں ہونگے۔

‘افغان فوج کابل سمیت دیگر شہری علاقوں میں بھرپور دفاع کرے گی جس سے انتشار کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔’

ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اگر افغانستان میں ایک مستحکم حکومت نہیں ہوگئی تو پاکستان میں مسائل پیدا ہونگے۔

‘افغانستان میں گڑبڑ اور انتشار کی کیفیت سے دھشت گرد کہلائے جانے والے گروپ فعال ہونگے اور ان کو کاروائیوں کا موقع ملے گا اور ایسی صورتحال میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ واقع تمام ممالک پاکستان، روس، ایران وغیرہ مل کر کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان میں امن وامان کے مسائل پیدا نہ ہوں۔’

ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب کے مطابق باجوڑ سمیت پاکستان کے دیگر سرحدی علاقوں میں حالات مخدوش ہونے کا خطرہ ضرور موجود ہیں مگر پاکستان کے سیکورٹی ادارے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

’دہشتگردی کیخلاف جنگ‘ اور باجوڑ

باجوڑ کا علاقہ ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے اور 1960 کے شروع میں پاکستانی اور افغان فوج کے مابین علاقے کے قبضے پر جھڑپ ہوئی تھی تاہم افغان فوج کو شکست ہوئی اور اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں تعطل آیا تھا۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد سے باجوڑ میں حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور امریکہ کی جانب سے علاقے میں متعدد بار ڈرون حملے کیے گئے جس میں سب سے بڑا واقعہ 2006 جنوری کا تھا جب باجوڑ میں افغان سرحد سے متصل گاؤں ڈاماڈولہ میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا جس میں 18 شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ڈاماڈولہ

جنوری 2006 میں افغان سرحد سے متصل گاؤں ڈاماڈولہ میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا جس میں 18 شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

حملے کے بعد امریکہ اور پاکستانی حکام کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ یہ القاعدہ میں اسامہ بن لادن کے بعد دوسرے سب سے اعلی رہنما ایمن الزہراوی کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا اور اس حملے میں دیگر رہنماؤں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

تاہم بعد میں یہ تسلیم کیا گیا کہ اس حملے میں القاعدہ کا کوئی بھی اعلی رہنما ہلاک نہیں ہوا تھا۔

اس کے دس ماہ بعد اکتوبر 2006 میں ایک بار پھر باجوڑ میں ایمن الزہراوی کو نشانہ بنانے کے لیے کے گاؤں چناگئی کے ایک مدرسے پر امریکہ نے ڈرون حملہ کیا جس میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جس میں اکثریت مدرسے کے طلبا کی تھی۔

افغانستان میں صورتحال کیا ہے؟

افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ملک کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں فریقین کی جانب سے اپنے اپنے موقف اور کامیابیوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے ملک کے اندر مختلف صوبوں میں ایک سو سے زیادہ شہروں کا کنڑول حاصل کرنے کا دعوی ہے تو دوسری جانب افغان حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پہلے سے طالبان کے لوگ موجود تھے اور جو علاقے افغان حکومت نے چھوڑے ہیں وہ حکمت عملی کے تحت کیے گئے ہیں۔

کابل سے افغان صحافی اسد صمیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغان فوجیوں نے 14 اضلاع کا کنڑول واپس لے لیا ہے اور اس کے لیے زمین اور فضائی حملے کیے گئے ہیں ۔ تاہم یہ تفصیل معلوم نہیں ہو سکی کہ یہ چودہ اضلاع کونسے ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے ایسی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جن میں افغان طالبان پاک افغان سرحد کے قریب صوبہ کنڑ کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوئے ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان کی جانب سے ایسی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جن میں افغان طالبان پاک افغان سرحد کے قریب صوبہ کنڑ کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوئے ہیں۔

افغانستان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مختصراً کہا ہے کہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے ۔

طالبان کا موقف

امریکہ سمیت تمام غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا جاری ہے لیکن دوسری جانب جنگ سے متاثرہ اس ملک میں ایسا خلا نظر آ رہا ہے جسے پر کرنے کے لیے مسلح کوششیں جاری ہیں اور اس وقت ملک کے مختلف حصوں نے افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

گذشتہ روز طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ جن علاقوں کا کنڑول طالبان نے حاصل کر لیا ہے وہاں میڈیا کے لوگوں اور خواتین پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں لوگوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور کوئی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔

طالبان کے نمائندے کی جانب سے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے حالانکہ ان علاقوں میں لوگ آباد ہیں اور وہ جو اسلام کے دائرے میں روز مرہ کی زندگی گزار رہے ہیں ان کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔

افغان صوبہ کنڑ اور قندھار کی اہمیت

کابل سے افغان صحافی اسد صمیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغان فوجیوں نے 14 اضلاع کا کنڑول واپس لے لیا ہے

پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2670 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے کئی علاقوں میں بسنے والے ایک دوسرے کے قریبی عزیز ہیں۔ ان کے آپس میں معاشی اور معاشرتی تعلقات کے علاوہ ایک دوسرے کی طرف آنا جانا ہے۔

افغان امور کے ماہر فیض اللہ خان کے مطابق سوویت یونین افغان جنگ کے دوران اور اس سے پہلے بھی صوبہ کنڑ اور قندھار افغان جنگ کا اہم مرکز ہوا کرتا تھے۔

یہ صوبے کسی زمانے میں سوویت یونین کے ساتھ جنگ کے دوران گلبدین حکمت یار کی تنظیم حزب اسلامی کے اہم مرکز ہواکرتے تھے۔

فیض اللہ خان کے مطابق بعد میں کنڑ اور قندھار افغان طالبان کا اہم گڑھ بن گئے تھے اور ملا عمر سمیت افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے بڑے حصے کا تعلق بھی صوبہ قندھار ہی سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش نے جب افغانستان میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں تو انھوں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کنڑ اور صوبہ ننگرہار سے کیا تھا۔

ایک وقت میں داعش نے صوبہ کنڑ میں کافی مضبوطی سے ا پنے قدم جما لیے تھے اور اس کے علاوہ افغان طالبان اور داعش کے درمیاں کنڑ میں خونریز لڑائیاں بھی ہو چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں