ضلع کرم میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، 3 دہشت گرد اور کیپٹن سمیت 2 اہلکار ہلاک

راولپنڈی +پشاور (ڈیلی اردو/وی او اے) خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کرم اور اورکزئی کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ایک افسر سمیت دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق یہ کارروائی فرنٹیر کور (ایف سی) میں شامل تھل اسکاؤٹس کے دستوں نے کی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں کیپٹن باسط اور سپاہی حضرت بلال جبکہ زخمیوں میں ایک حوالدار اور ایک نائیک بھی شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن باسط کا تعلق ہری پور اور سپاہی حضرت بلال اورکزئی کا رہائشی تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن میں 3 دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے۔

فوج کے بیان میں مزید تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ البتہ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے مزید دستے علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔

کالعدم شدت تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان نے ایک بیان میں وسطی کرم کے خود خیل اور غور غری کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

ایک روز قبل وسطی کرم کے علاقے سے اغوا کیے جانے والے چھ ملازمین میں سے ایک کی لاش ملی تھی۔ کرم کے ضلعی پولیس افسر نے بتایا تھا کہ باقی پانچ مغویوں کی بازیابی کے لیے ایف سی کے تعاون سے کوشش کی جا رہی ہے۔

وسطی کرم کے جس علاقے سے گزشتہ ماہ 26 جون کو نجی موبائل کمپنی کے 16 ملازمین کو اغوا کیا گیا تھا وہ افغانستان کے سرحدی علاقوں بالخصوص عسکریت پسندوں کی زیرِ اثر افغانستان کے علاقے تورہ بورہ کے قریب ہے۔

رپورٹس کے مطابق ملازمین کے اغوا میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مخرف ہونے والا جنگجو کمانڈر دولت خان اور ان کے ساتھی ملوث ہیں۔

جنگجو کمانڈر دولت خان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر وہ شدت پسند عسکری تنظیم داعش میں شامل ہو چکے ہیں اور انہوں نے ہلاک کیے جانے والے گلزار والد ذوالفقار نامی نوجوان کے رہائی کے بدلے میں مبینہ طور پر 20 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔ ہلاک ہونے والے نوجوان کا تعلق پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سے تھا۔

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عظمت علی زئی کے مطابق نجی کمپنی کے اغوا کیے جانے والے دیگر ملازمین کی بازیابی کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں مقامی لوگوں میں کافی پریشانی پائی جاتی ہے۔

ادھر بنوں اور شمالی وزیرستان کے درمیان اہم قبائلی علاقے جانی خیل میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا عنایت اللہ دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں ملوث تھا۔

دریں اثنا شمالی وزیرستان میں پولیس حکام نے بتایا ہے کہ موٹرسائیکل پر آئس کریم فروخت کرنے والے ایک شخص کو بھی گھات لگا کر قتل کیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے فرد کی شناخت شبیر ولد فیض بخش کے نام سے ہوئی ہے اور ان تعلق پنجاب کے علاقے بہاولپور سے بتایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں