پشاور: الائیڈ سکول پرنسپل کے ہاتھوں 6 سالہ بچے کا لرزہ خیز قتل

پشاور (ڈیلی اردو) پشاور کے نواحی علاقہ خزانہ میں نجی سکول کے پرنسپل نے 6 سالہ بچے کو پھانسی و چھریوں کے پے درپے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے ملزم کی گرفتاری کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔

محسن خان ولد ثواب گل ساکن رجڑ چارسدہ حال لالا زار کالونی نادر بائی پاس نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے خزانہ پولیس کو بتایا ”میں داؤد زئی میں واقع الائیڈ سکول میں چوکیداری کرتا تھا۔

5 جولائی کو سکول پرنسپل ڈاکٹر سہیل خان کو ایک خاتون ٹیچر کیساتھ واش روم میں دیکھا تھا جس پر پرنسپل نے زبان بند رکھنے کی دھمکی دی لیکن میں نے خاتون ٹیچر کے والد کو معاملے سے آگاہ کردیا جس پر اس نے اپنی بیٹی کا سکول جانا بند کردیا، شکایت کا علم ہونے پر سکول پرنسپل نے مجھے سکول سے نکالا اور دھمکی دی کہ اس کا بدلہ وہ ضرور لے گا۔

گزشتہ روز میرا بیٹا 6 سالہ حبیب اللہ گھر سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تاہم بعد ازاں نادر بائی پاس کے قریب سے وہ زخمی حالت میں ملا جسے پہلے اپنی قمیص سے پھانسی دینے کی کوشش اور پھر چھریوں کے وار سے شدید زخمی کردیا گیا تھا جسے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت واقع ہونے کی تصدیق کردی، میرے بیٹے کو سکول پرنسپل کے بدلے کے طور پر قتل کیا ہے جو واردات کے بعد فرار ہوگیا ہے”۔

پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کردی جبکہ ملزم کی گرفتاری کیلئے ہر ممکن کوشش شروع کردی گئی ہے اُمید ہے کہ اسے جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں