داسو بس دھماکا: آرمی چیف قمر باجوہ سے چینی سفیر کی اہم ملاقات

اسلام آباد (ڈیلی اردو) ‏آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چین کے سفیر کی ملاقات۔ آرمی چیف نے داسو بس حادثے اور چینی شہریوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی سفیر کی جی ایچ کیو میں ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں داسو بس دھماکے اور چینی شہریوں کی ہلاکت پر آرمی چیف کا اظہار افسوس، آرمی چیف نے چینی حکومت اور عوام سے واقعے پر ہمدردی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چینی سیفر نونگ رونگ نے سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ کیا اور داسو دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان ہر چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے تعاون جاری رکھیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کمانڈنٹ سی ایم ایچ میجر جنرل محمد علیم نے وزیر خارجہ اور چینی سفیر کو علاج و معالجے سے متعلق بتایا۔ وزیر خارجہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے زخمی چینی شہریوں کو ہر ممکن مدد اور طبی امداد کی یقین دہانی کرائی۔

چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان ہر چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے تعاون جاری رکھیں گے۔

کوہستان میں دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں نو چین کے انجینئرز تھے۔ اس وقعے کے بعد پاکستان کے حکام کے متضاد بیانات سامنے آئے۔ جس وقت یہ سانحہ پیش آیا اس وقت مقامی میڈیا کی طرف سے اس واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔ البتہ کچھ ہی دیر بعد حکام اسے حادثہ قرار دینے لگے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کی طرف سے شام گئے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اسے گیس لیکج کے باعث ہونے والا حادثہ قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں تاشقند میں موجود پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے وہاں موجود چین کے حکام سے ملاقات میں بھی یہی مؤقف اپنایا اور اسے ایک حادثہ قرار دیا۔

چینی حکام پہلے روز سے ہی اس مؤقف پر مطمئن نہیں تھے اور انہوں نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

واقعہ کے 24 گھنٹے گزرنے کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں واقعے میں دھماکہ خیز مواد استعمال ہونے کے شواہد ملنے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں دہشت گردی خارج از امکان نہیں ہے۔

بعد ازاں چین کی وزارتِ خارجہ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دہشت گردی ہے تو اس کے ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

اس کے بعد وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ خارجہ کی طرف کوئی بیان سامنے نہیں۔ ہفتے کو وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے اس واقعے کو کوئٹہ کے سرینہ ہوٹل کے واقعہ سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ اس میں وہی لوگ ملوث ہیں جو کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں کارروائی میں شامل تھے۔

اپریل میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے تھے جس وقت یہ دھماکہ ہوا رپورٹس کے مطابق اس وقت چینی سفیر سمیت اہم حکام کوئٹہ میں ہی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں